The news is by your side.

Advertisement

جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بعد امریکی صدر ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار

واشنگٹن : امریکی صدر نے جے پی او سی کے اجلاس میں باقاعدہ ایرانی جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کردیا، جس کے بعد سنہ 2015 سے قبل عائد پابندیاں دوبارہ نافذ کردی جائیں گی.

تفصیلات کے مطابق سنہ 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج جے سی او پی کے ساتھ امریکی تعاون کو ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے اس فیصلے کی رو سے ایران پر سنہ 2015 سے پہلے عائد پابندیوں کا دوبارہ اطلاق ہوجائے گا جو ایٹمی معاہدے کے باعث ختم کی گئی تھی۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذکورہ فیصلے پر فوری طور پر عمل درآمد کرنے کے لیے امریکی محکمہ خزانہ کا دفتر برائے بیرونی اثاثہ جات اس حوالے سے فوری اقدمات کررہا ہے۔

امریکی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ کچھ پابندیاں تین ماہ کے اندر لاگو کردی جائیں گی جبکہ کچھ پابندیوں 6 ماہ کے اندر اندر نافذ العمل کیا جائے گا، اس دوران ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے تمام کمپنیاں اپنے آپریشن بند کردیں ورنہ ان پر بھی سختی کی جائے گی۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں میں پرائمری اور ثانوی دونوں نوعیت کی پانبدیاں شامل ہیں، او ایف اے سی نے اپنی دیب سایٹ پر امریکی صدر ٹرمپ سے کیے گئے سوالات کو شائع کیا ہے جس میں لگائی گئی پابندیوں کی تفصیلات واضح ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذکورہ فیصلے پر وزیر خزانہ اسٹیون ٹی کا کہنا ہے کہ ’صدر ٹرمپ حلف لینے کے بعد سے متواتر کہتے آئے ہیں کہ موجودہ انتظامیہ ایران کی جانب سے پیدا کی گئی عدم استحکام کی سرگرمیوں کو مکمل طور ہر حل کرنے کےلیے پُر عزم ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بہترین منصوبہ سازی کے ذریعے ایسا لائحہ عمل معاہدہ تیار کریں گے جو ہماری قومی سلامتی کے مفاد میں ہوگا۔

اسٹیون ٹی کا کہنا تھا کہ ’امریکا ایران کی جانب سے کی جانے والی ضرر رساں سرگرمیوں کے لیے درکار سرمائے تک رسائی کو سرے سے ختم کردے گا، کیوں کہ ایران دہشت گردوں کا سب سے بڑی پشت پناہی کرنے والی ریاست ہے‘۔

امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ’ایران کی جانب سے کی جانے والی ضرر رساں سرگرمیوں امریکا کے اتحادیوں و حامیوں کے خلاف استعمال ہونے والے بیلسٹک میزائل، شامی صدر بشار الااسد کی حمایت اور اپنے ہی عوام کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور بین الااقوامی مالیاتی نظام کا استعمال شامل ہے‘۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے، خطاب کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ہونے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے صدارتی حکم نامے پر دستخط بھی کر دیے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں