The news is by your side.

Advertisement

اسٹریٹ کرائم کے بعد پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھینے کی وارداتیں بڑھنے لگی

کراچی : پولیس اہلکاروں نے اسلحہ چھینے کی وارداتوں پر تاحال قابو نہ پایا جاسکا، چھینے گئے سرکاری اسلحے کا دہشت گردی کی وارداتوں میں استعمال ہونے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے بعد سرکاری اسلحہ چھینے کی وارداتیں بھی نا تھم سکیں، گزشتہ سال سے اب تک 14 پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھینا جاچکا ہے اور تمام اہلکاروں سے نائن ایم ایم پستول چھینا گیا۔

 چھینے گئے سرکاری اسلحے کا فارنزک ڈویژن میں بھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، اسلحہ گیا، پولیس اور تفتیشی ادارے اب تک کوئی پیشرفت نہ کرسکے تاہم سی ٹی ڈی نے تحقیقات شروع کردی ہیں اور اس حوالے سے ان اہلکاروں کے بیانات بھی قلم بند کرلیے گئے ہیں جن سے اسلحہ چھینا گیا تھا۔

تفتیشی حکام کا ابتدائی تحقیق میں کہنا ہے کہ اسلحہ چھینے کی وارداتوں میں ایک ہی گروہ کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔

چھینے گئے سرکاری اسلحے کا دہشت گردی کی وارداتوں میں استعمال ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ دہشت گردی کی سابقہ وارداتوں میں اکثر نائن ایم ایم پستول ہی استعمال کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں سے ہتھیار چھینے جانے کا سلسلہ گزشتہ سال اپریل میں شروع ہوا تھا اور یہ وارداتیں سرجانی، صفورہ چوک، نارتھ ناظم آباد اور فائیو اسٹار چورنگی پر ہوئیں۔

تمام کیسوں میں موٹر سائیکل سوار ملزمان نے واردات کیں، شارع فیصل، سہراب گوٹھ، گلبہار اور شاہ لطیف ٹاون میں بھی اہلکاروں سے اسلحہ چھینا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں