The news is by your side.

Advertisement

پروفیسر افضل کا خودکشی سے پہلے لکھا گیا خط سامنے آ گیا

لاہور : پروفیسر افضل کا خودکشی سے ایک روز پہلے انکوائری افسر کو لکھا گیا خط سامنے آگیا، کالج لیکچرار نے لکھا تھا کہ انکوائری ختم ہوچکی ان کے پاس بے قصور ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔

 تفصیلات کے مطابق خود کشی کرنے والے پروفیسر افضل کا خط منظر عام پر آ گیا، جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ان کی بیوی انھیں چھوڑ کر چلی گئی، کالج والےبھی بدکردار سمجھ رہے ہیں، کلیئرنس سرٹیفکیٹ دیا جائے، مرجاؤں تو میری تنخواہ اوراچھے چال چلن کا سرٹیفکیٹ والدہ کو پہنچا دیا جائے۔

متوفی پروفیسر نے ہراسمنٹ کیس کی تحقیقاتی افسر پروفیسر ڈاکٹرعالیہ رحمان کو لکھا کہ آپ نے مجھے کہا تھا کہ میں ہراساں کرنے کے سارے الزامات سے بری ہوں لیکن میں اب بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوں کیوں کہ خبر پورے کالج میں پھیل چُکی ہے۔

متوفی پروفیسر کے خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ جب تک انتظامیہ مجھے تحریری طور پر نہیں دیتی کہ میں بے قصور ہوں اور سارے الزام بے بنیاد تھے تب تک میں ایک بد کردار شخص کی حیثیت سے جانا جاؤں گا، مجھے معلوم ہوا ہے کہ کیس کی تحقیقات دوبارہ شروع ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ میرے پاس بے گناہی کا کوئی ثبوت نہیں، میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ دوبارہ تحقیقات کریں اور انتظامیہ کو کہیں کہ( رول نمبر18444 بی ایس شعبہ ابلاغ ) کو پروفیسر پر جھوٹا الزام لگانے پر کالج سے نکالا جائے۔ الزام سے بری ہونے کا اب یہی ایک طریقہ ہے اور اس سے وہ دوسرے پروفیسر بھی محفوظ رہیں گے جو طلبا سے سختی سے پیش آتے ہیں، ہم نمبر دباؤ میں آکر نہیں بلکہ کارکردگی کی بنیاد پر دیتے ہیں، میرا قصور بھی یہی تھا۔

انہوں نے لکھا کہ الزامات کے بعد میری خاندانی زندگی شدید متاثر ہوگئی، میری بیوی مجھے بدکردار سمجھ کر چھوڑ کر چلی گئی اب میری زندگی میں کچھ نہیں بچا۔ میں کالج اور گھر والوں کی نظر میں ایک بد کردار آدمی ہوں، دل ودماغ ہر وقت تکلیف میں ہیں۔

خط میں متوفی پروفیسر نے مزید لکھا کہ اگر میں مرجاؤں تو آپ کو دوست سمجھ کر گزارش کرتا ہوں کہ میری تنخوا میری والدہ کو دی جائے اور پرنسپل کی طرف سے میرے اچھے چال چلن کا سرٹیفکیٹ بھی انہیں پہنچادیا جائے۔

مزید پڑھیں: کالج لیکچرار کی خود کشی کا ذمہ دار کون ؟ اے آر وائی تفصیلات سامنے لے آیا

انھوں نے لکھا کہ آپ سے پھر گزارش ہے کہ مجھے بری کیا جائے آپ سینئر پروفیسرہیں کالج انتظامیہ پر اس کام کے لیے زور ڈالیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں