کراچی : آغا خان یونیورسٹی کے ‘LEADS’ پروگرام نے فاصلاتی تعلیم کو آسان بنا دیا اور ورچوئل لرننگ پلیٹ فارمز نے نئے دروازے کھول دیے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں معیاری تعلیم تک رسائی کے روایتی تصورات میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے وہ تعلیم جو کبھی جغرافیائی حالات، آمدنی اور سماجی رکاوٹوں کی وجہ سے محدود تھی،
اب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے عام آدمی کی پہنچ میں آ رہی ہے۔ وبائی امراض کے بعد کی دنیا میں جہاں چیلنجز بڑھے ہیں، وہاں ڈیجیٹل لرننگ نے ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کو تعلیم کی فراہمی میں ایک "عظیم برابری” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ورچوئل کلاس رومز اور خود رفتار کورسز نے ان طلباء کے لیے راستے کھول دیے ہیں جو پہلے تعلیمی نظام سے باہر تھے۔
تاہم، دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور آلات کی عدم دستیابی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ خاص طور پر خواتین کے لیے سماجی اصول اور حفاظتی خدشات رکاوٹ بنتے رہے ہیں، جبکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ خواتین کی تعلیم مستحکم معیشت اور صحت مند معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔
اس بدلتی ہوئی صورتحال میں آغا خان یونیورسٹی کا LEADS نامی ورچوئل لرننگ پلیٹ فارم ایک خاموش انقلاب کی نمائندگی کر رہا ہے۔ یہ پلیٹ فارم خاص طور پر ایسے ماحول کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں انٹرنیٹ کی رفتار کم ہوتی ہے۔
اس اقدام کا مقصد تعلیم کو سخت نظاموں سے نکال کر لوگوں کی ضرورت اور سہولت کے مطابق ڈھالنا ہے، تاکہ سیکھنے کا عمل کسی بھی مرحلے پر رکنے نہ پائے۔
تعلیمی ادارے اب زندگی بھر سیکھنے (Lifelong Learning) کے تصور کو فروغ دے رہے ہیں۔ افرادی قوت کی بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اب صرف ڈگریاں ہی نہیں بلکہ ہنر پر مبنی پروگرام اور مائیکرو اسنا عملی حل کے طور پر ابھر رہے ہیں۔
یہ اقدامات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ تعلیم کو محض ایک مخصوص مرحلے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک مسلسل سفر بنایا جائے۔
انور خان اے آر وائی نیوز کراچی کے لیے صحت، تعلیم اور شہری مسائل پر مبنی خبریں دیتے ہیں


