The news is by your side.

Advertisement

آغا سراج درانی کے گھر کسی سے بد سلوکی نہیں کی، خواتین بھی نامزد ہیں، ترجمان نیب

اسلام آباد : ترجمان نیب نے کہا ہے کہ آغا سراج درانی کے گھر کا سرچ وارنٹ اور خواتین پولیس آفیسرز بھی موجود ہیں، کسی سے بد سلوکی نہیں کی گئی، کیس میں ان کے گھر کی دیگر خواتین بھی نامزد ہیں۔

یہ بات ترجمان نیب نے اے آر وائی نیوز ٹیم کو وضاحت دیتے ہوئے کہی، ترجمان نیب کا مزید کہنا تھا کہ آغاسراج درانی کے گھر سے لیپ ٹاپ اور کچھ دستاویز ملی ہیں، کیس میں آغا سراج درانی کے گھر کی خواتین بھی شریک ملزم ہیں۔

اس کے علاوہ کوثر شاہ درانی، ناہید درانی، صنم درانی، ذیشان شوکت، سونیا درانی، آغا شہباز درانی، سامل ملک کامل ملک ،شاہانہ درانی اور سارہ درانی بھی کیس میں نامزد ہیں۔

نیب ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیم کے ہمراہ3لیڈی سرچرز موجود ہیں، خواتین سے کوئی بدسلوکی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، آغا سراج درانی کے گھر میں موجود اہل خانہ نیب ٹیم سے تعاون کر رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پوری دنیا میں سرچ آپریشن کے کچھ اصول ہوتے ہیں، آپریشن کے دوران کوئی اندر آ سکتا ہے نہ باہر جاسکتا ہے، سرچ آپریشن مکمل ہوتے ہی ٹیم گھر سے باہر آجائے گی، اہل خانہ میں سے کسی کی گرفتاری شیڈول میں نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: آغا سراج درانی کے گھر کی خواتین کو حبس بے جا میں رکھا گیا، سعید غنی

واضح رہے کہ سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا تھا کہ سب سے اہم صورتحال آغا سراج درانی کے گھر کے اندر ہے، نیب ٹیم کی جانب سے اہلخانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی، فیملی ڈاکٹر کو بلایا گیا ہے مگر اسے بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی جارہی، ان کے گھر کی خواتین کو چھ گھنٹے سے گھر میں حبس بےجامیں رکھا گیا ہے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں