The news is by your side.

Advertisement

اگاتھا کرسٹی، جس نے شیکسپئر کی مقبولیت کو چیلنج کر دیا تھا

دنیائے ادب میں شیکسپئر کا سکہ چلتا ہے. اس معتبر انگریز قلم کار جیسی شہرت شاید ہی کسی ادیب کو ملی ہو، البتہ ایک ادیبہ ایسی بھی ہے، جو اپنی اثر پذیری اور مقبولیت کے باعث شیکسپئر کو چیلنج کرتی ہے.

تفصیلات کے مطابق اپریل 1564 میں برطانیہ میں آنکھ کھولنے والے ولیم شیکسپئر نے پچاس کے لگ بھگ کتابیں‌ لکھیں، جن کی گذشتہ چھ صدیوں‌ میں‌ چار ارب کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔ متعدد زبانوں میں اُن کے تراجم ہوئے.

گو چند محققین ولیم شیکسپئر کو افسانوی کردار قرار دیتے ہیں‌ اور ایسے کسی ادیب کی موجودگی سے متعلق تشکیک کا شکار ہیں، البتہ اس سے شیکسپئر کا سحر مزید بڑھ جاتا ہے. اس فسوں گر کی کئی کتاب آج بھی تواتر سے شایع ہورہی ہیں‌اور یکساں دل چسپی سے پڑھی جاتی ہیں.

بعد میں‌ آنے والے قلم کاروں میں‌ کوئی شیکسپئر کی مقبولیت کو چیلنج نہیں کرسکا۔ البتہ 15 ستمبر 1890 کو برطانیہ میں آنکھ کھولنے والی اگاتھا کرسٹی کے قلم میں‌ کچھ ایسا جادو تھا، جو اس جید ادیب کی مقبولیت کے لیے پہلا خطرہ ثابت ہوا.


دنیا میں‌ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی دس کتب


محققین متفق ہیں کہ شیکسپئر کے بعد جس لکھاری کو سب سے زیادہ پڑھا گیا، وہ جاسوسی ادب کی بے تاج ملکہ اگاتھا کرسٹی ہی تھی۔ اگاتھا کرسٹی نے دنیائے ادب کو Hercule Poirot اور Miss Marple جیسے یادگار کردار دیے۔ اُن کی 85 کتابیں منصۂ شہود پر آئیں۔ گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں اُس کا نام سب سے زیادہ فروخت ہونے والی ناول نگار کے طور پر درج ہے۔

اگاتھا کرسٹی کے ایک ناول And Then There Were None کی ایک ارب کاپیاں فروخت ہوئیں۔ اُسے دنیا کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا مسٹری ناول تصور کیا جاتا ہے۔ آج تک کوئی اس کی گرد بھی نہ پاسکا۔


کتاب، جس نے دنیا کو دیوانہ بنا دیا


مجموعی طور پر اگاتھا کرسٹی کی کتابوں کا 103 زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ یہ بھی ایک منفرد ریکارڈ ہے، جس تک کوئی اور مصنف رسائی نہیں حاصل کرسکا۔ اُس کی فروخت ہونے والی کتب کی تعداد ساڑھے تین سے چار ارب کے درمیان خیال کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ شیکسپئر کے برعکس اگاتھا کرسٹی نے یہ مرحلہ صرف سوا صدی میں طے کر لیا۔

گو آج دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے، گذشتہ چند دہائیوں‌ میں‌ کئی قلم کاروں نے عالمی شہرت حاصل کی، ان کی کتابیں ریکارڈ تعداد میں فروخت ہوئیں، مگر اب تک کوئی اگاتھا کرسٹی کی مانند شیکسپئر کی عظمت کے سامنے کھڑا نہیں‌ہوسکا اور مستقبل میں بھی اس کا امکان نہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانےکے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں