The news is by your side.

Advertisement

تبدیلی مذہب کیلیے عمر کی حد: عدالت کا بڑا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ کا ملک میں جاری تبدیلی مذہب کی عمر پر قانون سازی کی بحث کے پس منظر میں اہم فیصلہ ‏سامنے آ گیا۔

جسٹس طارق ندیم نے ذہنی بلوغت کو تبدیلی مذہب کے لیے پیمانہ قرار دے دیا۔ ‏

گلزار مسیح نے اپنی چودہ سالہ بیٹی چشمان کے تبدیلی مذہب کے خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی جس ‏پر عدالت نے فیصلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مثال دی ۔ ‏

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ اسلام دس سال کی عمر میں تبدیلی مذہب کی اجازت دیتا ہے شریعت نے قبول ‏اسلام کے لیے کوئی خاص عمر مقرر نہیں کی۔

عدالت نے چشمان کو والدین کے حوالے کیے جانے کی استدعا مسترد کردی اور چشمان کے قبول اسلام کو قانونی ‏قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے چشمان کیس کا 14 ستمبر 2021 کو سماعت کے بعد محفوظ کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں