The news is by your side.

Advertisement

قبول اسلام کیلیے عمر کی حد؛ علی محمد خان نے حقیقت بتا دی

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی و وزیرمملکت علی محمد خان نے قبول اسلام کے لیے عمر کی حد سے ‏متعلق ترمیم لانے کی تردید کر دی۔

ایک بیان مین علی محمد خان نے کہا کہ اسلام کی قبولیت کےلئےعمرحدکی کوئی ترمیم نہیں لا رہے ہیں چند ‏افراد کا پروپیگنڈا ہےجس میں کوئی حقیقت نہیں ہے پاکستان میں تمام اقلیتوں کومذہبی آزادی حاصل ہے۔

علی محمدخان نے کہا کہ معاشرےکی ترقی میں صحافیوں کا اہم کردار ہے حکومت صحافیوں کےمسائل کےحل ‏کےلئےکوشاں ہے پی ایم ڈی اےکامعاملہ حل کی طرف جا رہا ہے۔

اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری بیان میں علی محمد خان نے لکھا کہ اسلام میں ایمان لانے کیلئے عمر کی کوئی قید ‏نہیں البتہ کسی کو جبری مسلمان نہیں کیا جاسکتا، اسلام لانے کیلئے 18سال کے عمر کی کی شرط کا اسلام سے ‏کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی حکومت اس کی حامی ہے جس کی طرف سے بھی ایسی تجویز آئی ہے اس کو رد کیا ‏جاتا ہے۔

ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ مذہب کی جبری تبدیلی کے بل کے حوالہ سے خدشات کااظہار کیا جا رہا ہے ‏حکومت مجوزہ بل میں کسی بھی غیر اسلامی قانونی شق کو پاس نہیں ہونے دے گی تجویز کردہ بل تفصیلی ‏جائزےکیلئےکمیٹی سے وزارت مذہبی اُمور کو باضابطہ بھیجا گیاہے اسلامی قوانین کی لوازمات پوری ہوں گی توبل ‏پاس ہو گا ورنہ نہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں