The news is by your side.

Advertisement

بچوں کی فحش فلموں تک رسائی روکنے کے لیے اہم فیصلہ

لندن : برطانیہ میں انٹرنیٹ پرموجود فحش مواد تک رسائی کو صارفین کی عمر کے ساتھ مشروط کردیا گیا، برطانیہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا جہاں صارفین کو پورن فلم دیکھنے سے قبل قانونی طور پر اپنی عمر کی تصدیق کروانی ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی حکومت کی جانب سے بچوں کی فحش فلموں تک رسائی روکنے کےلیے نیا قانون منظور کیا گیا ہے، ماضی میں برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید بچوں کی جنسی بے راہ روی کے حوالے سخت قوانین بنانے کا عندیہ دے چکے تھے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ نیا قانون 15 جولائی سے نافذ ہوگا جس کے تحت کمرشل بنیادوں پر فحش مواد پیش کرنے والی کمپنیاں اس امر کو یقینی بنائیں گی کہ صارف کی عمر 18 برس سے زائد ہو۔

چائلڈ پروٹیکشن گروپ نے حکومت کے مذکورہ اقدام کی تعریف کی تاہم ڈیجیٹل رائٹس گروپ نے خبردار کیا کہ قانون کے اطلاق سے صارفین کا ڈیٹا چوری اور اس کی پروائیوسی متاثر ہو سکتی ہے۔

خبررساں ادارے کے مطابق مختلف سائٹس صارف کی عمر کی تصدیق کے لیے پاسپورٹ، کریڈٹ کارڈ سمیت اسپیشل واچر طلب کرسکیں گے۔

وزارت ڈیجیٹل کے وزیر مارگوٹ جیمس نے کہا کہ ’کوئی قانونی قدغن نہ ہونے کی وجہ سے تمام عمر کے بچوں کو پورنوگرافی مواد تک آسانی سے رسائی حاصل تھی۔

انہوں نے بتایا کہ فحاش مواد فراہم کرنے والی ویب سائٹس نے عمر کی تصدیق کے قانون پر عمل نہیں کیا تو برطانوی صارفین کے لیے ان کی سائٹس غیر فعال کردی جائیں گی۔

واضح رہے کہ طبی ماہرین متفق ہیں کہ پورنوگرافی مواد دیکھنے سے ذہین بری طرح متاثر ہوتا ہے اور اس کے منفی اثرات جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے انسان کو مجرمانہ حد تک فعل کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں 12 جون کو واقعہ پیش آیا تھا جس میں فحاش ویڈیوز کے عادی 14 سالہ لڑکے نے اپنی بڑی بہن کے ساتھ ریپ کردیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ بھارتی عدالت نے گاؤں کموتھے کے رہائشی 14 سالہ لڑکے کو اپنی 16 سالہ بہن کے ساتھ ریپ اور اسے حاملہ کرنے کے الزام میں بچوں کی جیل منتقل کردیا تھا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس آفیسر سب انسپکٹر پارشورام بھاتوسے کا کہنا تھا کہ ’ملزم اپنے موبائل پر فحاش ویڈیوز دیکھنے کا عادی تھا اور اس نے جنسی تسکین حاصل کرنے کے لیے اپنی بڑی بہن کو نشانہ بنایا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں