خواجہ حسن نظامی انشا پرداز اور مشہور ادیب تھے جنھیں مصورِ فطرت کہا جاتا ہے۔ ان کی ایک پہچان تصوف کی وہ دنیا بھی تھی جس میں خواجہ صاحب کو مرشد کا درجہ حاصل رہا۔ کئی کتابوں کے اس مصنّف کو جدید ادب میں طنز و مزاح نگار کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔ خواجہ حسن نظامی کی خوش مزاجی اور شگفتہ بیانی کے کئی قصّے بھی مشہور ہیں۔ ان کی باتیں دل چسپ اور جملے کاٹ دار ہوتے تھے، اور وہ اکثر اپنے مزاح اور برجستہ فقروں سے محفل کو زعفران زار بنا دیتے تھے۔
خواجہ صاحب کا یہ تعارف اور ابتدائیہ جس قصّے کو بیان کرنے کے لیے باندھا گیا ہے وہ شورش کاشمیری کی کتاب قلمی چہرے میں شامل ہے۔ شورش لکھتے ہیں:
احمد شاہ بخاری جن دنوں براڈ کاسٹنگ کے کنٹرولر تھے، دہلی میں ان کے ہاں کسی تقریب کا اہتمام تھا۔ سب بڑے بڑے لوگ مدعو تھے، ہندوستانی یورپین اور خالص یورپین۔ ان میں ایک سفید ریش بزرگ بھی فرو کش تھے۔ خواجہ صاحب نے حاضرین پر ایک چھچھلتی ہوئی نظر ڈالی اور استفسار کیا:
وہ سفید ریش بزرگ کون ہیں؟
تاثیر نے کہا "بخاری صاحب کے والد بزرگوار ہیں۔”
خواجہ صاحب مسکرائے اور فرمایا: "اچھا تو صحیح بخاری وہ ہیں۔”
چوتھی دفعہ انور صابری کی معیت میں (ملاقات کے لیے) گیا۔ اپنے حجرۂ خاص میں فرو کش تھے۔ چاروں طرف دیواروں پر سماع کے جواز میں مختلف اقوال لکھوا رکھے تھے۔ بڑے مزے کی باتیں کرتے رہے۔ انا تو خیر ہر بڑے آدمی میں ہوتی ہے۔ لیکن دلہن کے سولہ سنگار کی طرح چھوٹے چھوٹے فقرے ان کی زبان سے ایسے جھڑتے تھے، گویا شاخوں سے کلیاں ٹوٹ رہی ہیں۔


