کراچی (28 نومبر 2025): سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی بیٹی صنم نے وطن واپسی کیلیے سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ سے رجوع کر لیا۔
صنم درانی کے خلاف احتساب عدالت ون میں کرپشن ریفرنس زیرِ التوا ہے۔ نیب اور سرکاری وکلا نے آغا سراج درانی کی بیٹی کی درخواست کی سخت مخالفت کی۔
دورانِ سماعت عدالت نے نیب وکلا سے استفسار کیا کہ کیا آپ نہیں چاہتے کہ مفرور ملزم واپس آئے؟ جسٹس یوسف سعید نے کہا کہ پاکستان آنے پر ملزمہ کو احتساب عدالت میں پیش ہونا ہے، ضمانت کیلیے آئینی بینچ سے رجوع کیوں کیا گیا اور ریگولر بینچ کیوں نہیں؟
یہ بھی پڑھیں: سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی انتقال کر گئے
اس پر صنم رانی کے وکیل نے بتایا کہ ہائیکورٹس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561 کے اختیارات آئین کے تحت استعمال کرتی ہیں، آئینی بینچ کو بنیادی حقوق کے ساتھ ریگولر بینچ کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے صنم درانی کے ٹکٹ کی کاپی پیش نہیں کی وہ کہاں سے اور کب آنا چاہتی ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار امریکا میں ہیں پیشی کیلیے 8 سے 10 ہفتے کی مہلت دی جائے۔
سندھ ہائیکورٹ نے ریماکس دیے کہ اتنی طویل مہلت نہیں دی جا سکتی اگر آنا چاہتی ہیں تو تیاری کی ہوگی۔ وکیل نے بتایا کہ دسمبر میں ٹکٹس مہنگے ہوتے ہیں اور سیٹیں بھی نہیں ملتیں۔
آئینی بینچ نے صنم درانی کی 20 یوم کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے ملزمہ کو متعلقہ احتساب عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت جاری کر دی۔
صنم درانی پر آغا سراج درانی کی کرپشن سے فائدہ اٹھانے کا الزام اور ریفرنس زیرِ سماعت ہے۔ سابق اسپیکر سندھ اسمبلی کی ضمانت مسترد ہونے کے بعد ان کی بیٹی ملک سے باہر چلی گئی تھیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


