The news is by your side.

Advertisement

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان انصاف اور احتساب کا معاہدہ طے

اسلام آباد: پاکستان اور برطانیہ کے درمیان انصاف اور احتساب کا معاہدہ ہوگیا۔ معاہدے کے مطابق ملزمان کی حوالگی اور پاکستانی اثاثوں کی ریکوری کے لیے دوبارہ کام کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کی برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید سے ملاقات کے بعد وزیر قانون فروغ نسیم، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، قومی مشیر احتساب مرزا شہزاد اکبر اور برطانوی وزیر داخلہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

برطانوی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور دیگر وزرا سے ملاقاتیں ہوئیں، برطانیہ پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپورٹ مارکیٹ ہے۔ 2 فیصد برطانوی شہریوں کی جڑیں پاکستان میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اور دفاعی منصوبوں میں پاکستان کی بھرپور مدد کریں گے، وزیر اعظم عمران خان سے پاکستان کی بہتری کے لیے بات چیت ہوئی۔ دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں سے دونوں ممالک کو خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آرمڈ فورسز اور پولیس نے دہشت گردی کے خلاف کارکردگی دکھائی۔ منی لانڈرنگ کے باعث ٹیکس کی وصولی میں کمی ہوئی ہے، منی لانڈرنگ نے براہ راست پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ نئے تعلقات کے باب کے لیے آیا ہوں، قیدیوں کے تبادلے سے متعلق پروگرام شروع کر رہے ہیں، پاکستان برطانیہ کا انتہائی قریبی اور قابل اعتماد دوست ہے۔

ساجد جاوید کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی مصنوعات کی برطانوی مارکیٹ تک رسائی آسان بنائیں گے، وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ منی لانڈرنگ کے خلاف گفتگو ہوئی۔ منی لانڈرنگ کے تدارک کے لیے پاکستان برطانیہ مل کر کام کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ انصاف اور احتساب کا جوائنٹ ڈیکلیئریشن دستخط کر لیا گیا ہے، پاکستانی اثاثہ جات کی ریکوری کے لیے بھی اتفاق کر لیا گیا ہے۔ ’ملزمان کی حوالگی سے متعلق کابینہ کی منظوری کے بعد کام شروع ہوجائے گا‘۔

وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے بتایا کہ ایون فیلڈ اور اسحٰق ڈار الگ الگ کیسز ہیں، دونوں کیسز کے لیگل پوائنٹ پر الگ الگ بات چیت ہوئی۔ اسحٰق ڈار اور نواز شریف کے بچوں کی حوالگی سے متعلق کچھ نہیں بتا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں معاملات احتساب عدالت میں ہیں وہی اس پر بات کا حق رکھتے ہیں، ’معاہدہ مجموعی طور پر ہوگا کسی انفرادی شخص یا معاملے پر نہیں‘۔

ساجد جاوید نے مزید کہا کہ معاہدہ نیا ہے دونوں ممالک میں تعاون کو فروغ ملے گا، ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے ہٹنے کے لیے پاکستان کی مدد کریں گے۔ ’پاکستان کی لوٹی گئی دولت کے برطانیہ میں حجم پر ابھی بات نہیں ہوئی‘۔

انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی اور احتساب کا عمل چاہتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں