جمعہ, مارچ 6, 2026
اشتہار

احمد حسن دانی: علمِ بشریات اور آثارِ قدیمہ کے ماہر

اشتہار

حیرت انگیز

احمد حسن دانی وہ پاکستانی تھے جنھیں علمِ بشریات اور آثارِ قدیمہ کے ماہر کی حیثیت سے عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ انھیں ایک دانش ور اور ماہرِ لسانیات کے طور پر بھی پہچانا جاتا ہے۔ آج پاکستان کی اس قابل و باصلاحیت شخصیت کا یومِ‌ وفات ہے۔

پروفیسر احمد حسن دانی تیس سے زیادہ کتابوں کے مصنّف ‌تھے اور ان کی آخری تصنیف تاریخِ پاکستان کے نام سے ان کی وفات سے کچھ عرصہ قبل ہی منظرِ عام پر آئی تھی۔ شمالی پاکستان اور وسطی ایشیا کی قدیم تاریخ سے متعلق احمد حسن دانی کی تحقیقی کتب ایک بڑا سرمایہ ہیں۔ انھوں نے ساسانی بادشاہت پر بھی تحقیقی کام کیا اور جے پی موہن کے ساتھ مل کر تاریخِ انسانیت نامی انسائیکلو پیڈیا کی تیسری جلد مرتب کی تھی۔ سینئر صحافی عارف وقار لکھتے ہیں، وہ شمالی علاقہ جات کی مختلف بولیوں بلتی، شِنا اور بروشسکی وغیرہ سے تو واقفیت رکھتے ہی تھے لیکن جن چودہ زبانوں پر انھیں مکمل عبور حاصل تھا اُن میں اردو، ہندی، بنگالی، پنجابی، سندھی، فارسی، ترکی، پشتو، سرائیکی، کشمیری، مراٹھی، تامل، فرانسیسی اور سنسکرت جیسی متنوع زبانیں شامل تھیں۔

احمد حسن دانی 20 جون 1920ء کو کشمیر کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور وہیں تعلیم کے ابتدائی مدارج طے کیے تب ان کے والد کا تبادلہ ناگ پور ہوگیا۔ اردو عربی اور فارسی تو اسی زمانہ میں سیکھ لی تھیں، مگر ناگ پور میں اسکول میں ہندی اور سنسکرت بھی سیکھنے کا موقع مل گیا۔ اس سے ان کے اندر زباں فہمی کا شوق پیدا ہوا اور بعد میں انھوں نے مرہٹی زبان پر بھی عبور حاصل کیا۔ احمد حسن دانی کو اسی خصوصیت کی بنا پر ماہرِ لسانیات بھی کہا جاتا ہے۔ تاریخ اور آثارِ قدیمہ کے شعبے میں ان کی کتابیں سند کا درجہ رکھتی ہیں۔

1944ء میں گریجویشن کے بعد ایم اے کی ڈگری حاصل کی تو ان کی قابلیت اور تاریخ و ثقافت میں گہری دل چسپی نے انھیں محکمۂ آثارِ قدیمہ میں ملازمت دلوا دی۔ اس زمانے میں مشہور انگریز ماہر ٹیمر ویلر بنارس یونیورسٹی گئے تو وہاں ان کی ملاقات نوجوان احمد حسن دانی ہوئی اور وہ ان کے علم اور لگن سے بہت متاثر ہوئے۔ ویلر انھیں اپنے ساتھ دہلی لے گئے۔ بعد میں اس انگریز ماہر کے زیرِ نگرانی احمد حسن دانی نے ٹیکسلا اور موہنجو دڑو کی سائٹ پر کام کیا اور دریافت و تحقیق میں حصّہ لیا۔ بعد ازاں برٹش انڈیا کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں تعینات کیے گئے۔ حکومت نے احمد حسن دانی کو ہندوستان کی شہرۂ آفاق عمارت تاج محل میں تعینات کر دیا۔ پروفیسر دانی سمجھتے تھے کہ آثارِ قدیمہ سے متعلق معلومات عوام تک پہنچانے کے لیے عجائب گھروں کی تعمیر انتہائی ضروری ہے۔ چنانچہ 1950ء میں انھوں نے وریندر میوزیم راج شاہی کی بنیاد رکھی۔ کچھ عرصہ بعد جب انھیں ڈھاکہ میوزیم کا ناظم مقرر کیا گیا تو انھوں نے بنگال کی مسلم تاریخ کے بارے میں کچھ نادر نشانیاں دریافت کیں جو آج بھی ڈھاکہ میوزیم میں دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

تقسیمِ ہند کے بعد احمد حسن دانی پاکستان آگئے۔ یہاں ان کی پہلی تقرری مشرقی پاکستان میں ہوئی۔ 1948ء میں انھوں نے سر مور ٹیمر کے ساتھ مل کر ایک کتاب تصنیف کی جس کا نام ’’پاکستان کے پانچ ہزار سال‘‘ تھا۔ 1947ء سے 1949ء تک پروفیسر احمد حسن دانی محکمۂ آثارِ قدیمہ میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے طور پر ذمہ داریاں ادا کرتے رہے اور بعد میں سپرنٹنڈنٹ انچارج ہو گئے۔ انھوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں تاریخ کا مضمون بھی پڑھایا۔ جنرل محمد ایوب خان کے دور میں پشاور یونیورسٹی میں شعبۂ آثارِ قدیمہ کی بنیاد رکھی گئی تو پروفیسر احمد حسن دانی کو اس کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ اسی دوران انھوں نے پشاور، وادیٔ سوات اور دیگر علاقوں میں بعض مقامات پر کھدائی کا کام کروایا جس میں کئی نوادرات اور آثارِ قدیمہ برآمد ہوئے اور ہمیں انسانی تہذیب اور تمدن کو جاننے کا ایک اور موقع ملا۔

لاہور اور پشاور کے عجائب گھروں کی بہتری کے ضمن میں ان کی خدمات کو غیر معمولی خیال کیا جاتا ہے۔ حسن دانی مختلف ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد 1980ء میں ریٹائر ہوئے اور بعد میں ان کا وقت پتھروں پر کندہ قدیم تحریروں کو سمجھنے میں گزرا۔ اس کے لیے وہ اواخرِ عمر تک گلگت اور بلتستان کے علاقوں میں، جرمن ماہرین کے ساتھ قدیم حجری کتبوں کا مطالعہ کرتے رہے۔ ڈاکٹر احمد حسن دانی 1971 میں اسلام آباد منتقل ہوگئے تھے۔ وہاں قائدِاعظم یونیورسٹی میں شعبۂ علومِ عمرانی قائم کرکے ریٹائرمنٹ تک اسی سے وابستہ رہے۔ اسلام آباد ہی میں 26 جنوری 2009ء کو ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

ماضی بازیافت کرنے والے احمد حسن دانی کی علمی و تحقیقی مساعی کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا گیا۔ حکومت پاکستان نے انھیں ستارۂ امتياز اور ہلالِ امتياز دیا جب کہ امریکا، برطانیہ، فرانس اور آسٹریلیا کے علاوہ جرمنی اور اٹلی میں بھی انھیں جامعات کی سطح پر اعلیٰ تعلیمی اور شہری اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ احمد حسن دانی ان لوگوں‌ میں سے جن کے علم اور تجربے سے فائدہ اٹھانے کے لیے آکسفورڈ سمیت دنیا کے کئی ممالک کے تعلیمی اداروں نے ملازمت اور اپنی زمین پر شہریت دینے کی پیشکش کی، لیکن انھوں نے پاکستان نہیں چھوڑا۔ احمد حسن دانی کے مقالہ جات اور کئی مضامین اور مقالہ جات آج بھی بہت تاریخ و ثفافت کے طلبہ کے زیر مطالعہ رہتے ہیں اور بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں