The news is by your side.

Advertisement

طالبان کے خلاف احمد شاہ مسعود کا بیٹا میدان میں آگیا

کابل:پنجشیر طالبان کے حوالے کرنے سے متعلق اطلاعات پر احمد شاہ محسود کے صاحبزادے احمد مسعود خود میدان میں آگئے اور بڑا بیان داغ دیا۔

افغان میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا اور چند افغان صحافیوں کی جانب سے یہ خبریں بھی دی گئیں کہ احمد مسعود بغیر لڑائی کے پنجشیر طالبان کے حوالے کرنے کو تیار ہوچکے اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی پنجشیر کی بااثر شخصیات کی ملاقاتوں نے ان خبروں کو مزید تقویت دی۔

تاہم احمد مسعود کے ترجمان علی میسم نے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ بدقسمتی سے یہاں احمد مسعود اور ان کے قومی مزاحمتی فرنٹ کو لے کر کافی من گھڑت خبریں پھیلائی جارہی ہے، احمد مسعود کا کسی سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ کسی کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، برائے مہربانی بغیر تصدیق کے جھوٹ نہ چھاپیں۔

اپنی اس ٹویٹ کے تیرہ گھنٹے بعد علی میسم نے امن کے لیے قومی مزاحمتی فرنٹ کی شرائط بھی ٹوئٹر پر شئیر کیں جن میں طاقت اور وسائل کی تقسیم، جمہوری نظام اور افغانستان کے تمام عوام کے لیے برابری کے حقوق شامل ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان تقریباً کابل سمیت ملک کے تمام حصوں پر قبضہ کرچکے ہیں اور اس وقت ملا عبدالغنی برادر سمیت ان کی اعلیٰ قیادت افغان دارالحکومت میں موجود ہے اور ملک میں حکومت بنانے کے حوالے سے غور و فکر کررہی ہے۔

ایسے میں صرف پنجشیر ایک ایسا علاقہ ہے جو اب تک طالبان کے کنٹرول سے باہر ہے، پنجشیر افغانستان کے چونتیس صوبوں میں سے ایک ہے جو کابل سے تقریباً تین گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

یہ صوبہ طالبان کے پچھلے دور انیس سو چھیانوے سے لے کر دوہزار ایک تک میں بھی طالبان کے کنٹرول میں نہیں تھا اور ’شیر پنجشیر‘ کے نام سے مشہور احمد شاہ مسعود کی قیادت میں ناردن الائنس (شمالی اتحاد) طالبان کے خلاف جنگ اسی علاقے سے لڑتا تھا۔

احمد شاہ محسود کے صاحبزادے احمد مسعود اس علاقے میں موجود ہیں جنہوں نے کچھ دن قبل واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون میں لکھا تھا کہ وہ اور ان جنگجو طالبان کے خلاف جنگ لڑنے کو تیار ہیں۔

اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اس وقت کابل موجود ہیں جنہوں نے ہفتے کے روز پنجشیر کی بااثر شخصیات باشمول مذہبی رہنماؤں اور مسلح کمانڈرز سے اپنے گھر پر ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات کی تصاویر کو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ملک میں آنے والی تبدیلوں، امن اور اس استحکام قائم رکھنے کے طریقے کے حوالوں سے گفتگو کی۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں