site
stats
پاکستان

احمد لدھیانوی سے ملاقات کی خواہش وزیر داخلہ کی نہیں تھی، ترجمان

اسلام آباد: ترجمان وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ دفاع پاکستان کونسل کے ممبران سے ملاقات چوہدری نثار علی خان کی خواہش پر نہیں بلکہ مذہبی رہنماؤں کی خواہش پر ہوئی، کچھ لوگ جھوٹ اور سچ میں فرق نہیں رکھتے۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ترجمان نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل کے ممبران نے وزیر داخلہ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی جس کے بعد یہ ملاقات بھی اُن ہی کی درخواست پر ہوئی تھی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ سچ اور جھوٹ میں فرق نہیں رکھتے اور ملاقات کے حوالے سے بھی یہی طرز عمل اپنایا جارہا ہے، اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کی تمام دستاویزات ریکارڈ کا حصہ ہیں۔


پڑھیں: ’’ کمیشن کی رپورٹ کو ہر فورم پر چیلنج کروں گا، چوہدری نثار ‘‘


خیال رہے گزشتہ روز سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے کمیشن کی رپورٹ میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ’’دفاع پاکستان اور جماعت اسلامی کے رہنماء مولانا احمد لدھیانوی کو لائے ملاقات کے لیے اپنے ہمراہ  لے کر آئے تھے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’احمد لدھیانوی سے ملاقات کی پوچھ گچھ جماعت اسلامی ہی ہونی چاہیے تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ دفاع پاکستان کونسل کالعدم جماعت نہیں اور یہ مختلف مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے ہی 2013 میں وجود میں آئی تھی‘‘۔


مزید پڑھیں: ’’ چوہدری نثارکی پریس کانفرنس پرمختلف رہنماؤں کا شدید ردعمل ‘‘


وزیرداخلہ کی پریس کانفرنس کے بعد سیاسی ہلچل دیکھنے میں آئی، اپوزیشن جماعتوں نے چوہدری نثار علی خان سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا ہے جبکہ جماعت اسلامی کے رہنما نے ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر احمد لدھیانوی مطلوب تھے تو انہیں گرفتار کرنا چاہیے تھا‘‘۔


یہ بھی پڑھیں: ’’ حکومت ووٹ کے لیے لدھیانوی سے رابطہ کرتی ہے، جماعت اسلامی ‘‘


جماعت اسلامی کے ترجمان نے چوہدری نثارعلی خان کی پریس کانفرنس پر اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر داخلہ نے جواب دینے کے بجائے نیا سوال کھڑا کردیا جبکہ حکومت ووٹ لینے اور نشست میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مولانا احمد لدھیانوی سے رابطہ کرتی ہے تو وزیر داخلہ پنجاب رانا ثناء اللہ بھی ان کے پروگراموں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top