پاکستانی نوجوان نے بہترین استاد کا عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی نوجوان نے بہترین استاد کا عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا

لندن: پاکستان کے نوجوان استاد نے بہترین استاد برائے سال 2019 کا عالمی ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔

کیمبرج ایجوکیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دنیا بھر سے پچاس سے زائد استادوں نے مقابلے میں حصہ لیا، صارفین نے آن لائن ووٹ کاسٹ کیا۔

پاکستانی نوجوان احمد سایہ مقابلے کے فاتح قرار پائے اور انہوں نے بین الاقوامی ایوارڈ اپنے نام کیا۔

یاد رہے کہ پاکستانی ٹیچر نے اپنی انتھک محنت اورپرخلوص خدمات کے سبب ’پرعزم ٹیچر ایوارڈ 2019 ‘ کی حتمی فہرست میں جگہ بنائی تھی، عالمی مقابلے کا انعقاد کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے ہر سال کیا جاتا ہے۔

احمد سایہ قرطبہ اسکول ’اے لیولز‘ میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں، مقابلے میں 140 ممالک سے تعلق رکھنے والے ساڑھے تین ہزار سے زائد اساتذہ نے حصہ لیا جس کے بعد اُن میں سے 50 کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔

کیمبرج نے اپنی ویب سائٹ پر پاکستانی نوجوان کی شخصیت کے بارے میں کچھ اس انداز سے روشنی ڈالی کہ ’احمد ایک ایسے استاد ہیں جو ہمہ وقت اپنے شاگردوں کی مدد کے لیے تیار  رہتے ہیں، وہ اپنے طالب علموں کی مالی و تعلیمی معاونت کرتے اور اضافی کلاسز لیتے ہیں‘۔

’احمد ایک ایسے استاد ہیں جو ہر طالب علم کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں، اُن کی خواہش ہے کہ سارے بچے یکساں انداز میں ترقی کریں، وہ کلاس کے 100 بچوں کا ہوم ورک باقاعدگی سے چیک کر تے ہیں‘۔

کیمبرج نے تمام خصوصیات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ایسا استاد ہی دراصل اعزاز کا حق دار ہے جو طالب علموں کو اچھا انسان بنانے میں اپنی زندگی سرف کردیتا ہے۔

ایجوکیشن بورڈ اعلامیے کے مطابق پینل میں موجود ججز کے لیے فیصلہ کرنا مشکل تھا تاہم انہوں نے اپنی مہارت اور عمدہ صلاحیتوں کی بنیاد پر فاتح کا اعلان کیا۔

مخلص یا بہترین ٹیچر کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے احمد، بھارت سے تعلق رکھنے والے ابھی نندن بھٹا، سری لنکا اکے انتھونی، آسٹریلیا کے کینڈائس، فلپائن کے جمرے اور ملیشیاء کے مابین مقابلہ سخت تھا۔ فاتح ٹیچر کو کیمبرج میں ہونے والی کانفرنس میں خطاب کریں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں