پاکستان کے اوپنر بیٹر احمد شہزاد نے سرفراز احمد کو ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنائے جانے کی مخالفت کردی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اوپنر بیٹر احمد شہزاد نے کہا کہ پاکستان کرکٹ میں ٹیلنٹ کی نہیں میرٹ کی کمی ہے، سرفراز احمد فرنچائز کرکٹ سے پاکستان کپ گئے پھر جونیئر کرکٹ میں بطور مینٹور اس کے بعد سلیکشن کمیٹی میں عہدہ دیا گیا اور اب انہیں بغیر کسی تجربے کے ہیڈ کوچ بنا دیا گیا ہے۔
Pakistan cricket isn’t short on talent; it’s short on transparency and merit.
Sarfaraz Ahmed moved from franchise cricket into the Pakistan Cup, then into junior cricket as a mentor, then into a selection role, and now he has become the head coach in the ultimate format of the…
— Ahmad Shahzad 🇵🇰 (@iamAhmadshahzad) April 18, 2026
انہوں نے کہا کہ سرفراز کے قریبی ساتھی پہلے ہی اسد شفیق خواتین کی ٹیم کے سلیکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور کراچی اکیڈمی کا انتظام سنبھال رہے ہیں، انہیں اب بیٹنگ کوچ کے طور پر مقرر کردیا گیا ہے، وہ سلیکشن کمیٹی کے سیٹ اپ کا بھی حصہ ہیں۔
یہ پڑھیں: سرفراز احمد کو بنگلادیش ٹور کیلئے ہیڈ کوچ مقرر
قومی کھلاڑی نے کہا کہ یہ اوور لیپ ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے کیا یہ پیشہ ورانہ نظام ہے یا بند نیٹ ورک؟
احمد شہزاد نے لکھا کہ سعد بیگ ایک سیزن میں 1000رنز اسکور کیے ہیں، روحیل نذیر تیار ہونے کے باوجود سلیکشن کے منتظر ہیں اور شامل غازی غوری کو کیا جاتا ہے۔
اوپنر بیٹر نے کہا کہ شان مسعود 32 سال کے قریب ہونے کے باوجود کپتان برقرار ہیں کارکردگی کا معیار کہاں ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ کامران غلام کو ایک بار پھر نظر انداز کر دیا گیا ہے جبکہ آصف آفریدی آخری میچ کی شاندار کارکردگی کے بعد اب بھی ڈراپ ہیں۔ ابرار احمد کو بھی باہر رکھا گیا ہے، ڈومیسٹک کرکٹ میں ڈبل اور ٹرپل سنچریاں بنانے والی ہریرہ صرف دو مواقع ملنے کے بعد میدان سے باہر ہوگئے۔
احمد شہزاد نے مزید کہا کہ کسی بھی نظام میں جو چیز زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے وہ میرٹ ہے جس کا پاکستان کرکٹ میں واضح طور پر فقدان ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


