احمد علی ان افسانہ نگاروں میں شامل ہیں جن کے قلم نے جذباتیت پر مبنی اور رومانوی کہانیوں کے بجائے حقیقیت پسندی کو اپنایا اور افسانہ نگاری میں اپنے منفرد اسلوب کے باعث پہچانے گئے۔ افسانہ نگاری کے ساتھ انھوں نے اردو اور انگریزی زبان میں بھی علمی و ادبی کام بھی کیا۔
احمد علی صاحب کو اردو دنیا ایک ادیب، نقّاد اور دانش وَر کے طور پر جانتی ہے جن کی آج برسی منائی جارہی ہے۔ پروفیسر احمد علی 14 جنوری 1994ء کو کراچی میں وفات پاگئے تھے۔ ان کا تعلق دہلی سے تھا۔ ان کا سنہ پیدائش 1910ء ہے۔ تقسیم کے بعد پاکستان چلے آئے اور پاکستان میں فارن سروس سے منسلک رہے۔ علمی و ادبی مشاغل کے ساتھ ساتھ اپنی سرکاری ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے پروفیسر صاحب نے چین میں پاکستان کے پہلے سفیر کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔
احمد علی ہندوستان میں ترقی پسند ادب کی تحریک کا ایک انتہائی اہم نام اور فعال شخصیت رہے ہیں۔ ابتدائی تعلیم کانونٹ سے ہونے کی وجہ سے ان کی انگریزی استعداد خاصی تھی اور بعد میں انھوں نے اس زبان میں مضامین اور ناول بھی تحریر کیے۔ انگریزی زبان کے مدرس کے طور پر جامعات سے منسلک بھی رہے۔ باقاعدہ ادبی سفر کی بات کریں تو پروفیسر احمد علی نے افسانہ نگاری سے آغاز کیا تھا۔ ان کا ایک افسانہ، ایک متنازع افسانوی مجموعے "انگارے” میں بھی شامل تھا۔ اس کتاب کی اشاعت پر حکومت نے پابندی عائد کر دی تھی۔
ممتاز ادیب، فکاہیہ نگار، شاعر اور جیّد صحافی چراغ حسن حسرت بھی پروفیسر احمد علی کے بے تکلف دوستوں میں شامل تھے۔ پروفیسر احمد علی کے بارے میں انھوں نے اپنے قلم کو بے تکلفی سے رواں کیا تو نوک جھونک اور لطیف مذاق پر مبنی ایک تحریر سامنے آئی جس میں حسرت نے پروفیسر صاحب کی شکل و صورت کو بنیاد بنا کر شگفتہ باتیں کی ہیں۔ اس کے راوی نام وَر مزاح گو شاعر ضمیر جعفری ہیں۔ ملاحظہ کیجیے۔
"مرشد (ضمیر جعفری چراغ حسن حسرت کو مرشد کہتے تھے) کے دوست مشہور ادیب پروفیسر احمد علی ہندوستان سے چین جا رہے تھے۔ ان کا جہاز شب کے چند گھنٹوں کے لیے سنگا پور میں رک رہا تھا۔ مرشد ایک مدت سے ان کی راہ تک رہے تھے اور ان کے چند گھنٹوں کے قیام کو پُرلطف بنانے کے لیے کوئی پورے تین شب و روز کی مصروفیت طے کر چھوڑی تھی۔ لیکن اتفاق دیکھیے کہ جس شام احمد علی وہاں پہنچے ہیں، مرشد کو سو کر جاگنے، جاگ کر اٹھنے، اٹھ کر تیار ہونے اور پھر دو تین ساغر برائے ملاقات پینے میں اتنی دیر ہوگئی کہ جب ہم لوگ جہاز پر پہنچے تو پروفیسر صاحب شہر کی گشت پر نکل چکے تھے۔ اب انھیں ڈھونڈھنے کا مرحلہ شروع ہوا۔ جاوید نے کہا کہ اتنے بڑے اجنبی، پُراسرار شہر میں اندھا دھند تلاش سے کون مل سکتا ہے۔ لیکن مرشد بہت پُرامید تھے۔
فرمایا۔ ‘‘کیوں نہیں ملے گا۔ مجھے معلوم ہے احمد علی کو کہاں ہونا چاہیے۔ میرے بھائی میں احمد علی کو جانتا ہوں۔’’ تلاش شروع ہوئی تو احمد علی کو جہاں جہاں ہونا چاہیے تھا، ایک ایک مقام پر چھان مارا مگر وہ خدا معلوم کہاں غائب ہوگئے تھے۔ کوئی بارہ بجے کے قریب مرشد یہ کہہ کر کہ ذرا تازہ دم ہوکر ابھی پھر نکلتے ہیں، ایک چینی ریسٹورنٹ میں گھس گئے اور وہاں جام و مینا سے نہ معلوم کیا سرگوشیاں ہوئی کہ خیالات کا دھارا احمد علی کو پا سکنے کی رجائیت کی طرف سے یک بارگی احمد علی کو نہ پا سکنے کی قنوطیت کی طرف مڑ گیا۔ بولے:
‘‘مولانا یہ احمد علی تو ملتا دکھائی نہیں دیتا۔’’
‘‘کیوں؟’’ہم نے پوچھا۔
‘‘مولانا چینیوں کے اس شہر میں احمد علی کا ملنا ناممکن ہے۔ بات یہ ہے کہ سامنے کے رخ سے احمد علی بھی ساٹھ فی صدی چینی معلوم ہوتا ہے اور چینیوں کے انبوہ میں کسی چینی سے آپ خط کتابت تو کرسکتے ہیں، اسے شناخت نہیں کرسکتے۔ اب اس کو جہاز پر ہی پکڑیں گے۔’’
ضمیر جعفری آگے لکھتے ہیں، پھر وہیں بیٹھے بیٹھے مرشد نے جو احمد علی کی باتیں شروع کی ہیں کہ وہ کتنا پیارا آدمی ہے، کتنا نڈر ادیب ہے، کتنا قیمتی دوست ہے تو درمیان میں ہماری وقفہ بہ وقفہ یاد دہانیوں کے بعد جب ریستواراں سے اٹھ کر آخر جہاز پر پہنچے تو جہاز ہانگ کانگ کو روانہ ہوچکا تھا۔ بعد میں خط کتابت سے معلوم ہوا کہ پروفیسر صاحب نے بھی اس شب اپنے آپ کو سنگا پور پر چھوڑ رکھا تھا۔
احمد علی نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انھوں نے گیارہ برس کی عمر سے لکھنا شروع کردیا تھا۔ یہ 1920 یا 1921ء کی بات ہے۔ اردو میں کہانیاں اور ناول پڑھنے پر گھر والوں سے ڈانٹ بھی پڑتی تھی۔ پھر شاعری کا سلسلہ شروع ہوا اور اس پر گھر میں خوب ڈانٹ پڑی اور بدمعاش تک کہا گیا۔ لیکن پھر اسکول کے سالانہ جلسے میں انعام ملا تو لکھنے پڑھنے کا شوق بڑھ گیا۔ اسکول کی لائبریری سے کتابیں گھر لانے لگے اور کہانیوں کی کتاب کو اپنی کاپی میں چھپا کر پڑھتے۔
پروفیسر احمد علی کی تصانیف میں ہماری گلی، شعلے اور قید خانہ کے علاوہ انگریزی زبان میں لکھی گئیں Muslim China، Ocean of Night، The Golden Tradition، Twilight in Delhi اور Of Rats and Diplomats شامل ہیں۔ انھوں نے انگریزی زبان میں ناول کے علاوہ کئی موضوعات پر مضامین بھی سپردِ قلم کیے۔ پروفیسر احمد علی نے قرآن پاک کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا۔
پروفیسر احمد علی کو ستارۂ قائداعظم سے نوازا گیا تھا۔


