منگل, جون 16, 2026
اشتہار

ایک رئیس کا تذکرہ جس نے اپنا عالی شان مکان غریب آدمی کی بیٹی کے نام کر دیا

اشتہار

حیرت انگیز

احسان دانش بیسویں صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائی کے مقبول ترین شاعر تھے۔ وہ اُن چند شخصیات میں سے ایک ہیں جن کی فکر اور تخلیقی جوہر کو زندگی کی تلخیوں، مصائب، کڑے حالات اور معاش کے لیے ان کی دوڑ دھوپ نے نکھارا تھا۔ احسان دانش شاعرِ مزدور مشہور تھے۔

یہاں ہم ان کی آپ بیتی اور یادوں پر مشتمل کتاب سے ایک واقعہ نقل کررہے ہیں جو ناقابلِ یقین حد تک حیرت انگیز ہے۔ یہ اگلے زمانے کے لوگوں کے خلوص، ان کے جذبۂ ایثار اور مہربانیوں کو بیان کرتا ہے۔ احسان دانش لکھتے ہیں:

"نواب مظفر علی خان کے متعلق سنا ہے کہ وہ نواب زادہ لیاقت علی خان کے جد امجد تھے اور مظفر نگر ہی میں رہتے تھے۔ لیکن بعض بعض وقت واقعات اپنے نقوش دھند یا دھوئیں کی صورت میں چھوڑتے ہیں اور وہ رفتہ رفتہ مٹتے چلے جاتے ہیں۔ عوام کے دماغوں کو اتنی فرصت کہاں کہ وہ اچھی بری باتوں کو یاد رکھ سکیں لیکن نیکی زندہ رہتی ہے۔”

"نواب مظفر علی خان صاحب نے مظفر نگر میں اپنے باغ میں ایک وسیع و عریض محل تعمیر کر دیا تھا۔ محل تیار ہوئے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا اور صفائی کے لیے آدمی لگے ہوئے تھے کہ وہیں شہر میں ایک نہایت غریب آدمی کی لڑکی کی شادی طے پائی مگر اسے برات کے قیام کے لیے جگہ میسر نہیں آئی۔ کسی نے مشورہ دیا کہ نواب مظفر علی خان صاحب نے جو محل بنوایا ہے وہ ابھی استعمال میں نہیں، ان سے جا کر عرض کی جائے۔ ممکن ہے دل پسیج جائے اور ایک دو روز کے لیے محل میں برات کے قیام کی اجازت دے دیں۔”

"لڑکی کا والد نواب صاحب کے پاس گیا اور ان سے عرض کی کہ میری لڑکی کی شادی ہے۔ ایک دو روز کے لیے اپنا محل برات کے قیام کے لیے دے دیں تو غریب پروری ہوگی۔ نواب موصوف نے کہا کہ محل تو میں دے دوں گا مگر شرط یہ ہے کہ برات کا کھانا وغیرہ بھی میری طرف سے ہوگا اور اس کے لیے میں تمہارا ممنون ہوں گا۔ مجھے ایسے موقع کہاں میسر آتے ہیں؟ بارِ احسان سے لڑکی کے باپ کی نگاہیں جھک گئیں اور پلکوں میں آنسو سرسرانے لگے۔ اس نے پگڑی کے پلّے سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا، نواب صاحب آپ نے مجھے خرید لیا ہے۔ میں کیا عرض کروں میری معروض تو صرف محل میں ایک روز کے قیام کی تھی اور بس۔ میں کسی طرح آپ کے احسان کا بدلہ چکاؤں، میں تو ساری زندگی بھی آپ پر قربان کر دوں تو اس کا بدلہ نہیں کہا جا سکتا۔”

"نواب صاحب نے کہا میاں اس سے اچھا میرے مکان کا اور کیا مصرف ہو سکتا ہے؟ صندوقچے میں سے چابیاں نکال کر اسے دے دیں، اور کہا جاؤ کھول کر جہاں جہاں صفائی نہ ہوئی ہو خود کر لینا۔ برات آئی تو برات کے کھانے وغیرہ کا انتظام نواب موصوف کی طرف سے ہوا۔ چلتے ہوئے براتیوں کو ایک ایک جوڑا عورتوں اور بچوں سمیت راتوں رات تیار کرا کے تقسیم کیا، جیسے اپنی لڑکی کی شادی ہو۔”

"لڑکی کا والد ممنون بھی تھا اور شرمندگی سے اشک بار بھی۔ برات رخصت ہوئی تو وہ محل کی کنجیاں واپس کرنے گیا۔ نواب صاحب نے گچھا واپس کر دیا اور اس سے کہا کہ یہ محل تو ہم نے اس لڑکی کو دے دیا ہے۔ بلکہ اس وقت دے دیا تھا جب تم پہلی بار میرے پاس آئے تھے۔ اب میرا اس باغ اور محل پر کوئی حق نہیں۔”

"وہ باغ اور مکان ابھی تک اسی خاندان میں چلا آتا ہے اور سخاوت کا یہ واقعہ بھی سینہ بہ سینہ چلا آرہا ہے۔ میں آج دیکھتا ہوں تو اس قسم کے رئیس نظر نہیں آتے۔”

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں