site
stats
پاکستان

شام 8بجےکےبعدسقراط بقراط ٹی وی پربیٹھ جاتےہیں ،احسن اقبال

اسلام آباد : وزیرداخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ 2025تک پاکستان دنیاکی20بڑی معیشتوں میں شامل ہوگا، ، سیاسی رخنے نہ ڈالے جاتے توآج پاکستان کہیں آگے ہوتا ، شام 8بجےکے بعد سقراط بقراط ٹی وی پر بیٹھ جاتے ہیں۔

وزیرداخلہ احسن اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدیدٹیکنالوجی معاشیات،سماجیات اورمعاشرت کوبدل رہی ہے، چوتھا صنعتی انقلاب قدیم رہائش کےطریقےبدل رہا ہے، دنیا ہرلحاظ سےکائناتی ولیج میں تبدیل ہورہی ہے، جدیدٹیکنالوجی کاشکارہونے کے بجائےمستفیدہونےکی ضرورت ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مختلف چیزوں کےلئےممالک کاایک دوسرےپرانحصارہے، 2013میں اقتدارملا توہم نےمستقبل کالائحہ عمل ترتیب دیا، 2013سےپہلےکوئی دن ایسانہ تھا کہ دہشتگردی کاواقعہ نہ ہو، ہم نےدہشت گردگروپس کوجڑ سے اکھاڑپھینکا۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ کراچی معاشی حب ہےوہاں امن بحال ہوگیا ہے، 2025تک پاکستان دنیاکی20بڑی معیشتوں میں شامل ہوگا، معیشت کا ڈالروں یا پیسوں سے کوئی تعلق نہیں، معیشت کا تعلق ذرخیزذہنوں سےہوتاہے۔


مزید پڑھیں : پاک چین اقتصادی راہداری نے پاکستان کے دشمن قوتوں کے ہوش اڑا دیئے ہیں، احسن اقبال 


انھوں نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شام 8بجےکےبعدسقراط بقراط ٹی وی پربیٹھ جاتےہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اقتدار سنبھالا تو اتنی بجلی بھی نہ تھی کہ یوپی ایس چارج ہوسکے، 5سال میں اتنی بجلی پیداکی جتنی گزشتہ 70سال میں پیدا نہیں ہوئی۔

انھوں نے مزید کہا کہ صنعتوں کوبلاتعطل بجلی ملےگی تومصنوعات بڑھانے کا سوچیں گے، آج دنیا جی سیون اورجی20ممالک کی ہے، معیشت کسی بھی اصول پرمبنی ہولیکن مضبوط ہونی چاہئیے۔

پاک چین اقتصادی رہداری کے حوالے سے وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ سی پیک کسی کےخلا ف نہیں، محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، لوگوں کوبہترزندگی فراہم کرنےکی کوشش کررہےہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ 2030کاپاکستان معاشی استحکام کے لحاظ سےمختلف ہوگا، ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے، سیاسی رخنے نہ ڈالے جاتے توآج پاکستان کہیں آگے ہو تا، پاکستان ایک ابھرتا ہوامعاشی ملک ہے، دہشتگردی اورانتہا پسندی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہو تی ہیں، دنیاپاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت کو تسلیم کررہی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top