site
stats
پاکستان

اسحاق ڈار نے ملک کی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کیا،احسن اقبال

اسلام آباد : وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان کے معاشی استحکام کو پوری دنیا میں سراہا جارہاہے، ن لیگ مخالف سیاست ہور ہی ہے، نیلے پیلے اتحاد بن رہے ہیں، اسحاق ڈار نے ملک کی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان سوسائٹی آف ڈیولپمنٹ اکنامسٹ کی سالانہ کانفرنس میں وزیرداخلہ احسن اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھاپاکستان نےمعاشی استحکام کیلئےکوریاکی مددکی تھی، معاشی سفرمیں ملائیشیا اور کوریا پاکستان سے آگے نکل گئے ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پالیسیوں کےتسلسل سے ممالک ترقی کررہےہیں، 60 کی دہائی میں پاکستان نے بہت ترقی کی، 1990 میں پاکستان نے سب سے پہلے معاشی اصلاحات متعارف کرائیں جبکہ 90 کی دہائی میں بدقسمتی سے ہر2سال بعد حکومتوں کو گرایا گیا۔

وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ ہماری پالیسیوں کوبھارت نےاپناکرایک سال بعد ترقی کاسفرطے کیا، پالیسیوں میں تسلسل سے بنگلادیش ، بھارت کی معیشت بہتر ہوگئی، پائیدارترقی کےلئےمعاشی استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے۔

تقریب سے خطاب میں انکا کہنا تھا کہ چین میں 1949سےپالیسیوں کاتسلسل قائم برقرار ہے، ترقی کرنے والے ممالک میں حکومتیں اپنی مدت پوری کرتی ہیں، ملائیشیا اورترکی کے حکمرانوں کوملک کی ترقی کےلئے22 سال ملے۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی شخص قانون سےبالاترنہیں، کراچی کے امن کو کسی کو خراب نہیں کرنے دیں گے۔


مزید پڑھیں : سی پیک کو دیکھ کر پتہ لگتا ہے کون ہمارے ساتھ مخلص ہے، احسن اقبال


وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کےمعاشی استحکام کوپوری دنیا میں سراہا جارہاہے، ہماری درآمدات کارجحان مثبت ہے،اسحاق ڈار نے ملک کی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کیا، ن لیگ مخالف سیاست ہور ہی ہے، نیلے پیلے اتحادبن رہے ہیں۔

گذشتہ روز کراچی میں سی پیک سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا  کہ مشکل وقت میں بہترین دوست کاپتہ چلتاہے، دنیا نے کہنا شروع کردیا تھا پاکستان پتھر کے دور میں واپس جارہا ہے، پاکستان رواں سال 6 فیصد گروتھ ریٹ حاصل کرلے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top