The news is by your side.

Advertisement

توانائی منصوبوں کیلئے قرضہ نہیں لیا، ایک لیڈرمایوسی پھیلارہا ہے، احسن اقبال

کراچی : وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہمیں سی پیک معاہدے پر دستخط کرنے کا اعزازحاصل ہے، حکومت نے توانائی کے منصوبوں کیلئے کسی سے ایک ڈالر کا بھی قرضہ نہیں لیا، لیکن ایک لیڈر مایوسی پھیلارہا ہے، چین سے تعلقات کو ہم نے اسے عملی شکل دی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں سی پیک کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے کیا، احسن اقبال نے کہا کہ 2013میں حکومت آئی توحکومت ہچکولے کھارہی تھی، امان وامان کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح تھی۔

ہم حکومت سنبھالی تو ملک میں روزانہ18سے20گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، موجودہ حکومت نے معیشت کو مضبوط، دہشت گردی اوربجلی کو سسٹم میں شامل کرکے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے ملک کو دہشت گردی اورلوڈشیڈنگ جیسے مسائل سے نکالا، 2013میں کارخانے بند اور بے روزگاری عام تھی، کراچی سےسرمایہ کار بھاگ رہےتھے، امان وامان کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح تھی، کراچی2013کےمقابلے کتنا بہترہے یہاں کی عوام جانتے ہیں۔

احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ ستمبر2014میں چینی صدرنے سی پیک منصوبے کاافتتاح کرنا تھا، اس موقع پر چند سیاسی قوتوں نے دارالحکومت میں دھرنا دیدیا، ہماری تمام تر کوششوں کےباوجود چین کے صدر کو دورہ منسوخ کرنا پڑا۔

دھرنا دینے والوں کو کہا بھی تھا کہ چینی صدر کا دورہ ہونے دیں پھر دھرنا دیں، اس دوران اگر8مہینے ضائع نہ ہوتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔

وزیر داخلہ نے اپنے خطاب میں بتایا کہ 47ارب ڈالرکی سرمایہ کاری میں27ارب ڈالرکی سرمایہ کاری ہوچکی ہے، گلگت سےگوادرتک27ارب ڈالرکےمنصوبےمعیشت میں شامل ہوچکے ہیں، ماضی میں ملک میں انفرااسٹرکچرمیں کسی قسم کی سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔

وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا کہ کوئی بھی پاکستان پرالزام نہیں لگاسکتا، اسامہ بن لادن سےمتعلق معلومات ہم نے مغربی ایجنسیز کو دی تھیں، کسی پرالزام تراشی نہیں کرنا چاہتے، خطے میں امن واستحکام اور پڑوسیوں سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ایک لیڈرکا بیان پڑھا جو کہتاہے کہ حکومت میں آئے تو ملک میں چین والا نظام لائیں گے، میں
اس لیڈرکو بتانا چاہتاہوں کہ چین کے نظام میں دھرنوں کی گنجائش نہیں ہے۔

چین نے پاکستان سے دوستی کا ایک بہت بڑاحق ادا کیا ہے، چین نے ثابت کیا کہ وہ پاکستان کا بہترین دوست ہے، ملک میں کئی منصوبےجاری ہیں، توانائی منصوبوں پربھی کام ہورہا ہے۔

حکومت نےتوانائی کےمنصوبوں کیلئےایک ڈالرکا بھی قرضہ نہیں لیا، آج کل ایک لیڈر مایوسی پھیلارہے ہوتے ہیں پتہ نہیں ان کا ایجنڈا کیا ہے، سندھ کے قدرتی وسائل تھر کے کوئلے کوبھی استعمال میں لایاجارہاہے۔

ان کاکہنا تھا کہ سی پیک کے ذریعے پاکستان کے فزیکل انفرااسٹرکچرمیں جدت لا رہے ہیں، اس کے علاوہ ہائیڈل منصوبوں پرکام جاری ہے، موجودہ حکومت اگلی حکومت کو10ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کرکے دے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں