site
stats
پاکستان

امریکی صدر افغانستان کوپاکستان کی نگاہ سےدیکھیں بھارت کی نہیں، احسن اقبال

اسلام آباد : وزیرداخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ امریکی صدرکابیان ہماری قربانیوں کامذاق اڑانےکےمترادف ہے، کسی کوحق نہیں جس نےقربانیاں دیں ہوں اسےجھوٹا کہاجائے، امریکی صدر افغانستان کوپاکستان کی نگاہ سےدیکھیں بھارت کی نہیں ۔

تفصیلات کے مطابق وزیرداخلہ احسن اقبال کا اینٹی رائٹس یونٹ فورس کی تشکیل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نےبہت کم عرصےمیں تربیت حاصل کی ہے، جوانوں کوتربیت دینےمیں پنجاب پولیس کےشکرگزارہیں، جلداسلام آبادپولیس کوملک کی بہترین پولیس کااعزازحاصل ہوگا، پولیس کسی بھی معاشرے میں امن وامان کیلئے بنیادی کردار ادا کرتی ہے، انشااللہ اسلام آبادپولیس جلد دیگرصوبوں میں جاکر ٹریننگ دے گی۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پولیس جیسا مؤثر کردار کوئی فورس ادا نہیں کرسکتی، پولیس کو جدید بنیادوں پر استوارکرناضروری ہے ، ریپڈرسپانس فورس صوبوں میں تیارہوچکی ہے ، اسلام آبادپولیس کا پہلادستہ آئندہ ہفتےرول آؤٹ ہوجائے، اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ نچلی سطح پرلیکر جائیں گے، پولیس کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، ایس ایچ اوزکولیڈرشپ کی خصوصی ٹریننگ دی جارہی ہے۔

عراق اورشام میں باقاعدہ مہم جوئی کرکےحکومت کوغیرمستحکم کیا گیا

وزیرداخلہ نے کہا کہ عراق اورشام میں باقاعدہ مہم جوئی کرکےحکومت کوغیرمستحکم کیاگیا، افغانستان میں بھی ایک عرصےسےایسی ہی صورتحال ہے، ایران میں بھی مظاہرے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کیلئےجاری ہیں، پاکستان کیخلاف بھی اسی قسم کی سازشیں عروج پرہیں، ایسی سازشیں کامیاب ہونےسےسرمایہ کاری منہ موڑلیتی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ پولیس لوگوں کی حفاظت کےلئے اقدامات کرتی ہے، پولیس کی حفاظت کےلئے اقدامات لازمی ہیں ، ناکوں پر تعینات اہلکاروں کوخصوصی تربیت دی جائے، ناکےپر اہلکاروں کے پاس بلٹ پروف جیکٹ ہونی چاہئے۔

پاکستان کےدشمن ہماری ترقی سےخائف ہیں

احسن اقبال نے کہا کہ آج پاکستان میں سب سےبڑی سرمایہ کاری ہورہی ہے، پاکستان کےدشمن ہماری ترقی سےخائف ہیں، پاکستان کے دشمن ہمیں غیرمستحکم کرناچاہتےہیں، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے، مضبوط پیغام دیناہےکہ اب ہمارےامن سےکوئی نہیں کھیل سکتا، پاکستان کادارلحکومت بھی اوردیگرشہربھی اب محفوظ ہیں۔

وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ جمہوریت پرامن مظاہرےکی اجازت دیتی ہے، بدامنی اورانتشارکوپروان چڑھانےوالوں کیخلاف کارروائی ہوگی، جمہوریت مظاہروں سےعوام کی زندگی اجیرن کرنےکااختیارنہیں دیتی، خارجہ سطح پربھی پاکستان کوبہت سےچیلنجزدرپیش ہیں، پاکستان نےدہشت گردی کیخلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔

امریکی صدر کا بیان ہماری قربانیوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے

انھوں نے کہا کہ امریکی صدر کا بیان ہماری قربانیوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے، دنیاکےساتھ ملک کرپوری دنیامیں اہم کرداراداکررہےہیں، ہماری فوج کےدستےپوری دنیامیں امن فوج میں کرداراداکررہےہیں، اجازت دی ہےہماری پولیس کوبھی عالمی فورمزمیں جاناچاہیے، پاکستان بین الاقوامی سطح پرگرانقدرخدمات سرانجام دےرہاہے، افغانستان میں ہیڈکوارٹربناکربیٹھنےوالےگروہ کوپاکستان میں روکا۔

امریکی صدر افغانستان کوپاکستان کی نگاہ سےدیکھیں بھارت کی نہیں

احسن اقبال کا کہنا ہے کہ نیب پر عملدرآمد نہ کرتے تو وہ گروہ پورے خطے میں بیٹھاہوتا، پاکستان پرتنقیدکرنےوالوں کوپیغام دیناچاہتےہیں، آپ کےبکھیرےہوئےکانٹوں کی قیمت ہم نےاداکی، سویت یونین کوشکست کاکریڈٹ آپ نےلیا، سویت یونین کوشکست کےبعدآپ ہاتھ جھاڑکرچلےگئے، آپ نےیہ نہیں سوچاہتھیاروں کے جو انبار لگا دیئے ان کا کیا ہوگا۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ اس خطےمیں انتہاپسندی کابیج بونےوالوں نےمستقبل کانہیں سوچا، آپ اس خطےمیں ہتھیاراورغربت چھوڑکرچلےگئے، اس صورتحال میں دہشت گردی اورانتہاپسندی پیداہونی تھی، ایسی صورت میں پاکستان آج تک قربانیاں دےرہاہے، کسی کوحق نہیں جس نےقربانیاں دیں ہوں اسےجھوٹاکہاجائے، ٹرمپ کو کہتا ہوں آپ کے ملک میں کوئی شامی مہاجرنہیں آسکتا، پاکستان نےجنگ میں35لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی۔

انکا کہنا تھا کہ ٹرمپ سے پوچھتا ہوں افغان مہاجرین کیلئے کیا کیا؟ غریب ملک ہونے کے باوجود35لاکھ افغان مہاجرین کوبرداشت کیا، پاکستان کی خودمختاری پرحملہ کرنے کا حق کسی کونہیں، محبت سے کوئی زہر کا پیالہ بھی پلائے تو ہم پی لیں گے، کوئی رعب اوردھمکی سےشہدکاپیالہ پلائےتوانکارکردیں گے۔

پاکستان کسی دباؤمیں نہیں آئےگااپنےفیصلےخودکریگا

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان ایک باعزت اور خوددار قوم ہے، پاکستان سےزیادہ کسی ملک کااسٹیک نہیں کہ افغانستان میں امن ہو، پاکستان سےزیادہ کوئی ملک نہیں چاہتاافغانستان میں امن ہو، افغانستان میں امن کوبھارت کی نگاہ سےدیکھیں گےتوشاہدامن نہ ہو، امریکی صدر افغانستان کوپاکستان کی نگاہ سے دیکھیں بھارت کی نہیں۔

انکا کہنا تھا کہ ہماری پوری کوشش ہے افغانستان میں امن قائم ہو، افغانستان میں امن پاکستان کےمفادمیں ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ اپنےملک میں جاری رکھیں گے، پاکستان میں نیشنل ایکشن پلان پربھرپورعملدرآمدکرینگے، پاکستان میں ہرصورت امن قائم کریں گے، پاکستان کسی دباؤمیں نہیں آئے گا اپنے فیصلے خود کریگا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top