لاہور (29 نومبر 2025): وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی کی سیاست اور پاکستان دشمن عناصر ایک پیج پر پیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے سخت ترین مارشل لاؤں کا سامنا کیا، ہم نے عمران خان کے دورِ حکومت میں مارشل لاؤں سے زیادہ جبر برداشت کیا، ہمارے خلاف جھوٹے مقدمے بنے، لیڈرز جیلوں میں گئے اور میڈیا پر پابندیاں لگیں لیکن ان سب کے باوجود سیاسی جنگ ہم نے ریاست کی حدود میں رہ کر لڑی، آج تک کسی جماعت نے بیرون ملک جا کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا نہیں کیا، کسی نے پاکستان کو عالمی عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت قیدی 804 کا نمبر تبدیل کر کے 420 کر دے، احسن اقبال
احسن اقبال نے کہا کہ بہت سے سیاسی مقاصد ہیں جو پی ٹی آئی کی سیاست کے بھارت کے ساتھ ملتے ہیں، اگر آئی ایم ایف کا پروگرام ہوتا ہے تو تکلیف پی ٹی آئی اور بھارت کو ہوتی ہے، پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہتر ہوں تو تکلیف پی ٹی آئی یا بھارت کو ہوتی ہے، پاکستان عالمی سطح پر قد بڑھائے تو اس کی تکلیف ان کو ہوتی ہے۔
’شہداء کی یادگاروں کو مسمار کرنا کون سے سیاسی شعور کی علامت ہے؟ یہ کون سا شعور ہے جو چھاؤنیوں اور فوجی بیسز پر حملوں کی ترغیب دے۔ نفرت کی سیاست میں پی ٹی آئی تمام حدیں عبور کر چکی ہے۔‘
احسن اقبال نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ریاستی مفادات سے کھیلتی ہے تو سختی سے نمٹیں گے، امریکا میں بھارت نواز اور اسرائیل نواز لابیز کے ذریعے پاکستان کے خلاف قرارداد منظور کروائی گئی، اگر پی ٹی آئی میں دم ہے تو غزہ کے خلاف بھی قرارداد لا کر دکھائے، ان کی سیاست ملک دشمنی پر مبنی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت ذمہ داریاں چھوڑ کر سیاسی بیانیے کے پیچھے چھپ رہی ہے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو دہشتگردی کنٹرول کرنی چاہیے سیاسی ناٹک نہیں، اپنا صوبہ دہشتگردوں کے حوالے کر کے اڈیالہ جیل میں ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔
’پاکستان کے دشمن دہشتگردی کو آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے جبکہ ان ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلیے کبھی عمران خان کا نام، کبھی بیانیہ اور کبھی لانگ مارچ استعمال کیا جاتا ہے۔ صوبے کے عوام ان کی حقیقت جان چکے ہیں، ہری پور کے ضمنی انتخابات نے ثابت کیا کہ عوام نے پی ٹی آئی کو مسترد کر دیا۔‘
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


