The news is by your side.

Advertisement

کسی ملک کی سرزمین سے پاکستان مخالف سرگرمیاں ہوئیں تو شدید احتجاج کریں گے ،احسن اقبال

اسلام آباد : وزیرداخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور کسی ملک کی سرزمین سے پاکستان مخالف سرگرمیاں ہوئیں توشدید احتجاج اورسفارتی سطح پراقدامات کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیرداخلہ احسن اقبال نے پاکستان پیس فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور اگر کوئی پاکستان کیخلاف اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت دے گا تو احتجاج کرینگے، سفارتی سطح پر بھی اس ملک کیخلاف اقدامات کئے جائیں گے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں، پرامن معاشرے سے ہی ترقی کا سفر آگے بڑھ سکتا ہے، ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے، سائنس وٹیکنالوجی کیساتھ معاشرے کیلئے آرٹ بھی ضروری ہے، پاکستان اب کلچر اور تہزیب میں بھی واپس آ رہا ہے۔ پاکستان دہشتگردی کے تصور کو ختم کر کے اب کلچر اور تہزیب کو اگے لے جانے میں بھی کام کر رہا ہے، ایشیاء اب دنیا کے بزنس کا مرکز ہو گا۔

وزیر داخلہ  نے کہا کہ آج کے دور میں ہم مقابلے کی دوڑ میں ہیں، ہمیں بھی باقی ملکوں کی طرح ایسے شعبے جن مین کام نہیں ہوا، ان میں کام کرنا ہے تاکہ باقی دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔

اپنے خطاب میں انکا کہنا تھا کہ کہ ترقی امن کے بغیر ممکن نہیں ہے، کوئی بھی شعبہ اس وقت ترقی نہیں کر سکتا، جس سوسائٹی میں امن نہیں ہوگا، وہ لوگ جو محاز کھڑے کرتے ہیں وہ ترقی نہیں کر سکتے، فلم وغیرہ جیسا کام کرکے ہم امن کا تاثر دے سکتے ہیں، اس کے زریعے ہم اپنے کلچر اور اپنی تہزیب کو اجاگر اور زندہ رکھ سکتے ہیں، پاکستان ان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اب انٹرنیشنل میڈیا بھی یی کہہ رہا یے کہ پاکستان ایک بڑی معشیت بن خر ابھرے گا۔

احسن اقبال نے کہا کہ مجھے توقع ہے فلم فیسٹیول کے شر کاء پاکستان کے لیے سفیر کا کردار کریں گے۔پرامن پاکستان کا تشخص دنیا کے سامنے رکھیں گے، دنیا میں معیشیت کو مضبوط۔ بنانے کی دوڑ ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ترقی یافتہ ممالک سے تیز رفتاری سے چلنا ہوگا، ترقی امن سے ممکن ہے، خطرے میں گھیرا ہوا ملک یا خطہ ترقی نہیں کر سکتا، ملک کی ترقی کے لیے اندرونی استحکام ضروری ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں