The news is by your side.

Advertisement

فیصلوں سے ہماری سیاسی مقبولیت بڑھ رہی ہے، کہہ سکتاہوں تھینک یوسپریم کورٹ ،احسن اقبال

اسلام آباد : وزیر داخلہ احسن اقبال ملک میں سیاسی استحکام پربھی سرجیکل اسٹرائیکس کی جارہی ہیں، فیصلوں سے سیاسی مقبولیت بڑھ رہی ہے، کہہ سکتاہوں تھینک یوسپریم کورٹ۔

تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے، جہاں نوجوانوں کی اکثریت ہے، دنیا کا نوجوانوں کا80 فیصد حصہ ترقی پذیر ممالک میں ہے، ترقی پذیرممالک میں نوجوان افرادی قوت ترقی میں شامل ہے، نوجوانوں کےساتھ ان کی ضروریات بھی زندگی میں بڑی ہوتی ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہرایک کوبنیادی ضروریات اور ترقی کےمواقع چاہتےہیں، اگر ترقی کےمواقع نہیں ملیں تو نوجوان بددلی کاشکارہوں گے، نوجوانوں کوترقی دینے کے لیے ایک طریقہ کارکی ضرورت ہے، جہاں 18سے20گھنٹےبجلی نہ وہاں ترقی کےمواقع ختم ہوجاتےہیں، بجلی کےنہ ہونےنےہمارےبنیادی ڈھانچے کی ترقی کاعمل متاثرکیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے جب حکومت سنبھالی تو دہشتگردی کا جن بے قابو ہوچکا تھا، جس دن اموات سنگل ڈیجیٹ میں ہوتیں اچھا دن تصورکیا جاتا تھا، پانی کے منصوبوں کی دیکھ بھال نہیں کی گئی تھی، افغانستان کیلئے نیٹو رسد لے جانے ٹرکوں نے سڑکیں تباہ کردیں۔

انکا کہنا تھا کہ 1965کی جنگ کے بعد ہماری معاشی ترقی کی رفتاررک گئی، ہم 1960کی ترقی کی رفتارکوبرقرارنہ رکھ پائے، 90کی دہائی میں معاشی اصلاحات سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوئیں، 90میں کی گئی معاشی اصلاحات کوبھارت اوربنگلہ دیش نے اپنالیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ نوجوانوں کا فرض ہے کسی کوبھی سیاسی استحکام سےنہ کھیلنےدیں، معاشی جنگ میں شکست ہوئی تومستقبل میں مشکلات ہی مشکلات ہونگی، 35 سال میں آمروں نے یقین دلایا،  ملک میں ہر کوئی چورہے، ہم نےاس چیزکوتسلیم کرلیا،لوگوں نےاسےمان لیا، ڈپریشن والاہراچھی چیزکوبھی بری نظر سے دیکھتے ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دنیا سے معاشی ترقی میں مقابلہ کرناہے،دھرنوں ، فسادمیں نہیں ، ہمیں اپنےملک کی اچھی خبروں کونمایاں کرناہے، ہمیں اپنےملک کے لیے مثبت بیانیے کو داخل کرنا ہے، پاکستان سے متعلق اچھی خبریں عالمی میڈیامیں چھپ رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کبھی دہشت گردوں نےملک کوآگے لگایا ہوا تھا، آج ملک نےدہشت گردوں کوآگےلگایاہواہے، کبھی دہشت گردی روز ہوتی تھی، اب ہفتوں،مہینوں میں ہوتی ہے، پاکستان میں بھی آدھا گلاس خالی اور آدھا بھرا ہواہے، ہمیشہ آدھا گلاس خالی دیکھنے والا پریشان ہی رہے گا۔


مزید پڑھیں :  عدلیہ کے فیصلے نواز شریف کو دلوں سے نہیں نکال سکتے، احسن اقبال


احسن اقبال کا کہنا تھا کہ جب آنے والاسال گزشتہ سے بہتر ہو تو وہ ترقی پر گامزن ہے، آج کوئی یہ نہیں کہہ سکتاکہ ہم بہتر نہیں ، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ  2017 کا سال 2018سے بہترتھا، ملک کو دنیا کی  25بہترین معیشتوں میں شامل کریں گے، اگراسی رفتارسےترقی جاری رہی تو20بہترین معیشتوں میں بھی شامل ہوں گے، ہمیں اس سفر کو بغیر رکے جاری رکھنا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ قدرت نے ترقی کے لیے اقتصادی راہداری کی شکل میں بونس دیا، یہ ہمارےلیےکرکٹ کی نہیں فٹ بال کی گیندکاکیچ ہے، برےحالات میں چین نےاربوں ڈالرکی پاکستان میں سرمایہ کاری شروع کی، اقتصادی راہداری سے ملک کے اندرانقلاب کی بنیاد رکھی گئی ہے، تھرمیں کوئلےکی قوت کسی طور سعودی عرب کےتیل سےکم نہیں، اس سے بجلی پیدا کی جائے تو400سال تک بجلی پیدا کرسکتےہیں۔

انکا کہنا تھا کہ آئندہ چند سال میں خطےکی مصروف ترین بندرگاہ بن چکی ہوگی، سلامتی اورتوانائی کے چیلنجز کے قابو پر پالیا،اقتصادی راہداری شروع کی، ہم پاکستان کےترقی کے لیے ٹیک آف کو کریش کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہمارے لیے انتہا پسندی اور دہشت گردی بہت بڑے خطرے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ سب پاکستانی کسی مذہب یانسل سےہوں ایک خاندان کی طرح ہیں، پاکستان ہرایک رہنےوالےکےلیےجنت ہونی چاہیے، ضروری ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل کرائیں، عمل نہ کرانے کا فائدہ غیرملکی دشمن قوتیں اٹھاسکتی ہیں، منی لانڈرنگ کےخلاف بہت اقدامات کیے ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے پاناماکیس کوسیاست کاذریعہ بنایا، ہمیں اپنی سیاست سےمقدمےنہیں بنانےچاہییں، افغانستان سےمتعلق ہمیں امریکا کےدباؤکا سامنا ہے، الیکشن کا سال ہے ہر سیاسی جماعت نےعوام کے پاس جانا ہے، اس وقت سیاسی جماعتوں میں اختلاف ہونا انہونی بات نہیں، جمہوری عمل کمزورہونے سے نقصان سب کا ہوگا۔

انکا کہنا تھا کہ ہمیں پیش نظررکھناچاہیےکہ پارلیمنٹ ہی بڑاادارہ ہے، پارلیمنٹ ہی سپریم کورٹ کےججوں کی تعداداورمراعات کاتعین کرتی ہے، پارلیمنٹ کے بطن سے ہی آئین پیداہوتاہے، پارلیمنٹ کے بطن سے ہی تمام ادارے بھی پیدا ہوتے ہیں، چند سوافراد کا نہیں، پارلیمنٹ 20کروڑ عوام اور جمہور کا ادارہ ہے، ملک کو انتشار کی طرف لے جانا کوئی عقلمندی نہیں ہوگی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام پربھی سرجیکل اسٹرائیکس کی جارہی ہیں، اقدامات سےتاثرابھررہاہےکہ سیاست میں ٹارگٹ کلنگ شروع ہوگئی ہے، سیاست دان اب پرائمری اسکول میں نہیں ،پی ایچ ڈی کرلی ہے، فیصلوں سے ہماری سیاسی مقبولیت میں اضافہ ہورہاہے، فیصلوں سےسیاسی مقبولیت بڑھ رہی ہے، کہہ سکتاہوں تھینک یوسپریم کورٹ‌‌۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں