site
stats
پاکستان

وزیر داخلہ اور وزیر قانون کی چارواہ سیکٹر کے گاؤں آمد

سیالکوٹ: وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر قانون زاہد حامد نے گزشتہ روز بھارتی جارحیت کا نشانہ بننے والے چارواہ سیکٹر کے گاؤں پہنچے اور بھارتی جارحیت سے شہید ہونے والوں کے ورثا سے ملاقات کی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر قانون زاہد حامد چارواہ سیکٹر کے گاؤں پہنچے۔ وزرا نے بھارتی درنددگی کے باعثشہید ہونے والے ورثا سے ملاقات اور فاتحہ خوانی کی۔

اس موقع پر ڈی جی رینجرز میجر جنرل اظہر نوید حیات نے وفاقی وزرا کو متاثرہ علاقوں اور شیلنگ سے متعلق بریفنگ دی۔

وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بزدلانہ کارروائیوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوتے۔ عالمی برادری بھارت کی بزدلانہ کارروائیوں کا نوٹس لے۔ ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے کشمیر کے معاملے کو دبایا نہیں جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیری بھائیوں کی اخلاقی و سفارتی مدد جاری رکھیں گے۔ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اس سے متعلق اقوام متحدہ میں قراردادیں موجود ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت ہمیں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھانے سے نہیں روک سکتا۔

احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کا حوصلہ اور جذبہ ایسی کارروائیوں سے کمزور نہیں ہوسکتا۔ پاک فوج، رینجرز اور عوام متحد ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارتی بلا اشتعال فائرنگ سے 6 شہری شہید

دوسری جانب وزیر قانون زاہد حامد کا کہنا تھا کہ ورکنگ باؤنڈری کے قریب رہنے والوں سے مشاورت کی ہے۔ شہریوں کی جانب سے کچھ تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ ایمبولینس کے فوری پہنچنے سے متعلق اقدامات کیے جائیں گے۔

زاہد حامد کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے ہر سال ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کی جاتی ہے۔ ورکنگ باؤنڈری پر 50 بنکر بنانے کی تجویز دی گئی تھی جسے منظورکرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی قسم کی جارحیت پر یقین نہیں رکھتے۔ کوئی بھی جارحیت کرے گا تو اس کو ویسا ہی جواب دیں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھارت نے ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کرتے ہوئے چارواہ، ہڑپال اور چھپار سیکٹر کو اپنا نشانہ بنایا تھا۔

بھارتی جنگی جنون کے نتیجے میں 6 شہری شہید اور 26 زخمی ہوگئے تھے۔

پاکستان رینجرز پنجاب کی جانب سے بھرپور جواب دیتے ہوئے دشمن کی بندوقیں خاموش کروا دی گئیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top