The news is by your side.

Advertisement

دھرنے والوں کو 2 گھنٹے میں‌ بھگا سکتے ہیں، احسن اقبال

اسلام آباد: وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ 2013 میں جب حکومت سنبھالی تو ملکی معیشت کریش لینڈنگ کرچکی تھی، ہمارے بہترین منصوبوں کی وجہ سے دوسرے ممالک بھی ہمارے جیسے خواب دیکھ رہے ہیں، دھرنے کے شرپسند عناصر کو 2 گھنٹے کے اندر بھگا سکتے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ملک کو آگے لے جانے کے لیے حکومت نے مختلف منصوبے شروع کیے اور ہر طبقے کے ساتھ مل کر مستقبل کا تعین کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ حکومت کی ہر ممکن کوشش ہے کہ بہترین مستقبل کے لیے اقدامات پر عمل درآمد کیا جائے مگر افسوس ہے کہ چند سازشی لوگوں نے ہمارے مثبت اقدام کی برائیاں شروع کردیں اور آج وہ مایوسی پھیلانے میں مصروف ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’جب حکومت سنبھالی تو معیشت کریشن لینڈنگ کرچکی تھی اور ملک میں 20 ، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری تھی مگر ہم نے تمام مثبت اقدامات کے ذریعے اندھیروں سے ملک کو نکالا‘۔

پڑھیں: آرمی چیف کی جانب سے ’خوشحال بلوچستان‘ پیکج کا آغاز

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہمارے بہترین پروگراموں اور منصوبوں کی تصدیق بیرونِ ممالک بھی کررہے ہیں، آج دیگر ممالک ہمارے خواب دیکھ رہے ہیں۔ْ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’دیرپا ترقی کے لیے تمام طبقات کو شامل کرنا ہوگا کیونکہ مضبوط معیشت کا ثمر ہر طبقے کو پہنچانا ضروری ہے۔

دھرنے کے شرکاء کو 2 گھنٹے میں بھگا سکتے ہیں، احسن اقبال

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’ختم نبوت کے نام پر کچھ لوگ سیاست کررہے ہیں، دھرنے میں وہ لوگ بیٹھے ہیں جو گالیاں دے کر لوگوں کو حکومت کے خلاف ورغلاتے ہیں‘۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ ریاست کو یرغمال بنا کر وفاقی وزیر قانون کا استعفیٰ لینا چاہتے ہیں، حکومت ایسے شر پسند عناصر سے حکومت 2 گھنٹے میں نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں‘۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’دھرنے والوں سے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کیے مگر وہ لاشیں گرا کر ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں، ناجائز مطالبات تسلیم کرلیے تو مستقبل میں مزید چھوٹے چھوٹے مطالبات کے سامنے آجائیں گے، حکومت کے پاس سرنڈر کا کوئی راستہ نہیں ہے‘۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں