The news is by your side.

Advertisement

پاک فوج کی کارروائیوں سے تنظیم میں مایوسی پھیل گئی‘ احسان اللہ احسان کا ویڈیو بیان

کراچی: کالعدم تنظیم کے ہتھیارڈالنے والے ترجمان احسان اللہ احسان کے اعترافی بیان کی ویڈیوجاری کردی گئی‘ ان کا کہنا تھا کہ بم دھماکوں سمیت جتنے بھی جرائم کیے ذاتی مقاصد کے لیے کئے ‘اسلام ہمیں اس کا درس نہیں دیتا‘ نوجوانوں کو اسلام کے نام پر گمراہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے چند دن قبل ہتھیار ڈالنے والے  احسان اللہ احسان کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کو این ڈی ایس اور را سے مدد ملتی ہے۔

اسلام کے نام پر گمراہ کیا گیا


احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ نو سال تنظیم سے وابستہ رہا‘ ہمیں اسلام کے نام پر گمراہ کیا گیا ‘ بھتہ خوری‘ اغوا برائے تاوان‘ پبلک مقامات پردھماکے کرنا‘ اور اسکولوں اور کالجوں پر حملے کرنا‘ اسلام تو ہمیں ان سب کا حکم نہیں دیتا۔

ان کا کہنا تھا ہمارے امیر اسلام کے نام پر نوجوانوں کو استعمال کرتے تھے اور جو نعرہ لگاتے تھے اس پر خود بھی پورانہیں اترتے تھے۔

بھارت اور افغانستان کی مدد


ویڈیو بیان میں انہوں نے اعتراف کیا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ہوا توہم سب افغانستان چلے گئے جہاں این ڈی ایس اور را سے تعلقات بڑھے‘ ان کی طرف سے ٹارگٹ دیے جانے لگے اور ہرٹارگٹ کی بھرپور قیمت وصول کی گئی۔


جماعت الاحرارکی ویب سائٹ بھارت سے آپریٹ ہونے کا انکشاف


دہشت گردوں نے افغانستان میں کمیٹیاں بنا رکھی ہیں جہاں سے یہ این ڈی ایس اور را سے روابط رکھتے ہیں۔ ان لوگوں افغانستان میں’تذکرے‘ (شناختی کارڈ) دیے گئے ہیں جن کی مدد سے یہ باآسانی افغانستان میں نقل و حمل کرتے ہیں۔

جب را کی ایما پر پاکستان میں حملے کیے تومیں نے عمرخالد خراسانی سے کہا کہ یہ تو ہم کفار کی مدد کررہے ہیں تو اس نے کہا کہ پاکستان میں تخریب کاری کے لیے اگراسرائیل سے بھی مدد لینا پڑی تو لوں گا۔ میں اس وقت سمجھ گیا کہ یہ اسلام کے نام پر ذاتی مفادات کی جنگ ہے۔

سوشل میڈیا سے نوجوانوں کو ورغلایا جاتا ہے


انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب پاک فوج کے آپریشن کے بعدمیڈیا پر کوریج ملنا ختم ہوگئی توان دہشت گردوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں سےرابطہ کرنا شروع کردیا۔

سوشل میڈیا سے رابطہ کرکےنوجوانوں کو اسلام کے نام پر گمراہ کیا گیا۔ خود آرام سے افغانستان میں بیٹھے رہے اور جو فائٹرز تھے ان کو پاک فوج کے آگے چھوڑدیا‘ نوجوانوں سے اپیل کروں گا کہ ایسے لوگ صرف آپ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں گے ان سے دور رہیں۔

تنظیم میں اقتدار کی کشمکش


تحریکِ طالبان کے سابق ترجمان نے انکشاف کیا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران سب ہی تنظیم کے امیر بننا چاہتے تھے جن میں عمرخالد خراسانی‘ سعید سجنا‘ ملا فضل اللہ وغیرہ شامل ہیں۔

حکیم اللہ کی موت کے بعد تنظیم میں اقتدار کی کشمکش تیز ہوگئی‘ یہاں تک کہ شوریٰ کو قرعہ انداز کرنا پڑی جس کے نتیجے میں ملا فضل اللہ امیر بنا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے شخص کو امیر منتخب کیا گیا جس نے اپنے استاد کی بیٹی سے زبردستی شادی کی۔

ویڈیو پیغام میں ملا فضل اللہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ ایسے لوگ اسلام کی کیا خدمت کریں گے جن کے کردار ایسے ہیں‘ ایسی تنظیم سے کوئی امید نہیں رکھی جاسکتی۔

فراری کمانڈرز کے نام پیغام


دہشت گردوں کے ساتھی احسان اللہ احسان نے اپنے ویڈیو پیغام میں انکشاف کیا کہ پاک فوج کے افغانستان میں جماعت الاحرار کے ٹھکانوں پر حملوں کے بعد کئی کمانڈرز مارے گئے اور تنظیم میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔

انہوں نے فرار ہوجانے والے دہشت گرد کمانڈروں سے اپیل کی کہ تم کب تک پاک فوج سے لڑتے رہوگے اب بس کرواور امن کا راستہ اختیار کرو۔

احسان اللہ احسان کا تعارف


کالعدم تنظیم کے ترجمان نے ویڈیو کے آغاز پر اپنا تعارف کرایا کہ وہ سنہ 2008 میں کالج کے طالب علم تھے جب تحریک طالبان میں شمولیت اختیار کی۔

ٹی ٹی پی مہمند ایجنسی کا ترجمان رہے اور اس کے بعد کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان بھی مقرر ہوئے‘ بعد ازاں جماعت الاحرار کے ترجمان بھی رہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں