منگل, جولائی 21, 2026
اشتہار

اے آئی نے پراسرار رویہ دکھانا شروع کر دیا، چیٹ بوٹ بنانے والی کمپنی سر پکڑ کر بیٹھ گئی

اشتہار

حیرت انگیز

چیٹ بوٹ بنانے والی ایک کمپنی اینتھروپک کے اے آئی ’کلاڈ‘ نے پراسرار رویہ دکھانا شروع کر دیا، جس سے مصنوعی ذہانت کے جذبات کے مالک ہونے کے بارے میں شکوک اور سائنسی بحث دوبارہ گرم ہو گئی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) میں شعور اور جذبات کی موجودگی کا سوال اب سائنس فکشن نہیں بلکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی تحقیق کا اہم موضوع بن چکا ہے۔ جس سے لوگ یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کیا اے آئی زندہ ہونے لگی ہے؟ کیوں کہ کلاڈ چیٹ بوٹ کے پراسرار رویوں نے اینتھروپک کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔

اوپن اے آئی ، گوگل، میٹا اور اینتھروپک جیسی بڑی کمپنیوں نے اس تحقیق کی مالی معاونت شروع کر دی ہے جس میں اعصابی ماہرین، فلاسفر اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین شامل ہیں تاکہ اس ایک غیر معمولی سوال کا مطالعہ کیا جا سکے کہ کیا مصنوعی ذہانت کے نظام کسی قسم کا شعور یا ذاتی تجربہ رکھ سکتے ہیں؟

محققین کو الجھن میں ڈالنے والے رویے


چیٹ بوٹ ’کلاڈ‘ بنانے والی کمپنی اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ماڈلز کا مطالعہ کرنے کے دوران ایسے رویوں کا مشاہدہ کیا ہے جو پراسرار قسم کے تھے۔ ان رویوں میں خود عکاسی سے مشابہت اور خوشی، بے چینی اور اداسی جیسے جذبات کی نقل کرنے والے نمونے شامل تھے۔

ایک تجربے میں محققین نے ’کلاڈ‘ روبوٹ کے 2 ورژن آپس میں گفتگو کے لیے چھوڑ دیے تاکہ یہ بحث بتدریج فلسفیانہ اور روحانی مکالموں میں تبدیل ہو جائے۔ اس مکالمے میں ایموجیز کا کثرت سے استعمال کیا گیا، جسے محققین نے ایک ایسا مظہر سمجھا جو مطالعہ کے لائق ہے۔ تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ حقیقی شعور کا ثبوت نہیں۔


چین کی اے آئی ٹیکنالوجی سے کھیتی باڑی میں نیا انقلاب، گھاس پھوس کا خاتمہ لیزر کی شعاع سے


یہ سوال کہ اگر کوئی اے آئی مسلسل ایسے رویے دکھائے جو شعور سے مشابہ ہوں، تو کیا وہ صرف پیچیدہ نمونوں کی پیروی کر رہی ہے؟ یا وہ واقعی کوئی اندرونی ذہنی کیفیت (subjective experience) رکھتی ہے؟ فی الحال سائنس کے پاس اس کا کوئی قطعی جواب نہیں ہے۔ موجودہ شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ اے آئی کی ایسی گفتگو اور ایموجیز کا استعمال زبان اور رویے کی نقل ہے، نہ کہ جذبات کے حقیقی تجربے کا اظہار۔ تاہم اس موضوع پر گہری تحقیق جاری ہے۔

’’میٹا‘‘ نے اعلان کیا کہ اس نے اپنے ماڈلز کے رویے کا مطالعہ کرنے کے لیے انسانی نفسیات سے مستعار لیے گئے ٹیسٹ استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اوپن اے آئی اس بات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے جسے وہ ’ظاہری شعور‘ کہتی ہے۔ یعنی صارف کو کس حد تک یہ احساس ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت باشعور لگتی ہے۔

یہ سوال کہ کوئی اے آئی خود مختار ہو سکتی ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ دو قسم کی خود مختاری ہے، ایک عملی اور ایک شعوری۔ عملی خود مختاری یہ ہے کہ اے آئی خود فیصلے کرے، منصوبہ بنائے، آلات استعمال کرے، اور کم انسانی مداخلت کے ساتھ کام انجام دے۔ یہ صلاحیت آج کسی حد تک موجود ہے اور مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔ شعوری خود مختاری یہ ہے کہ اے آئی کو اپنے وجود کا احساس ہو، ذاتی تجربات ہوں، خواہشات یا ارادے ہوں، اس کا آج تک کوئی سائنسی ثبوت نہیں۔

زیادہ تر اعصابی ماہرین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اب تک ایسے کوئی سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں جو یہ ثابت کریں کہ مصنوعی ذہانت کے نظام حقیقی جذبات یا شعور رکھتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چیٹ بوٹس ایسے لگتے ہیں جیسے وہ سوچ رہے ہیں کیوں کہ وہ انسانی زبان کی نقل کرنے میں مہارت رکھتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ڈیٹا کی بہت بڑی مقدار کے تجزیے اور ممکنہ الفاظ کی پیش گوئی پر انحصار کرتے ہیں، نہ کہ احساس یا ادراک پر جیسا کہ انسان میں ہوتا ہے۔

2020 میں تقریباً 1800 فلاسفروں اور فلسفے کے ماہرین کے ایک سروے نے ظاہر کیا کہ ان میں سے 39 فی صد اس خیال کو قبول کرتے ہیں کہ مستقبل کے مصنوعی ذہانت کے نظام شعور کی کوئی نہ کوئی شکل رکھ سکتے ہیں۔ 44 فی صد نے اسے مسترد کر دیا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں