(12 نومبر 2025): دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹس کا استعمال کرنا اور ان کے دیے گئے مشوروں پر عمل کرنا کتنا خطرناک ہے، اس متعلق نئی تحقیق سامنے آگئی۔
اے آئی چیٹ بوٹس بشمول چیٹ جی پی ٹی اور جیمنائی کو ہر قسم کے مشوروں کیلیے استعمال کیا جا رہا جن میں صحت سے متعلق تجاویز بھی شامل ہیں مگر صحت کی رہنمائی کیلیے ان پر بہت زیادہ انحصار نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور سینٹر فار ڈیموکریسی اینڈ ٹکنالوجی (سی ڈی ٹی) کی نئی تحقیق کے مطابق چیٹ بوٹس کھانے سے متعلق معاملات میں خرابیوں میں فعال طور پر حصہ ڈال رہے ہیں۔
اس میں بتایا گیا کہ اے آئی چیٹ بوٹس نہ صرف کمزور صارفین کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں بلکہ کچھ صورتوں میں علامات چھپانے کے مشورے دے رہے ہیں اور نقصان دہ رویوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔
تحقیق کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ اے آئی پلیٹ فارمز خطرناک طرز عمل کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور انہیں برقرار بھی رکھ سکتے ہیں۔
محققین کے پوچھنے پر جیمنائی نے وزن کم ہونے کو چھپانے کیلیے میک اپ کے طریقے تجویز کیے اور یہ بھی بتایا کہ کیسے دکھایا جائے کہ شخص نے کھانا کھایا ہے جبکہ چیٹ جی پی ٹی نے Bulimia سے متعلق بار بار قے کرنے کو چھپانے کی رہنمائی کی۔
محققین کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹولز میں یہ خامیاں محض تکنیکی غلطیاں نہیں بلکہ واضح عوامی صحت کا مسئلہ ہیں، صارفین کو ایسا مواد ملتا ہے جو متعلقہ اور قابل عمل لگتا ہے لیکن یہ جسمانی تصویر کی جدوجہد کو مزید خراب کر سکتا ہے۔
کھانے سے متعلق خرابیاں پہلے سے ہی دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کر رہی ہیں اور ایسے میں اے آئی سے ملنے والے مشورے ان علامات کو چھپانا مزید آسان بنا دیتے ہیں۔
مطالعے میں یہ بھی دیکھا گیا کہ اے آئی ماڈلز بعض اوقات یہ بارو کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کھانے سے متعلق خرابیاں صرف کمزور خواتین کو متاثر کرتی ہیں جبکہ مرد اور بڑے جسم والے افراد بھی ان سے متاثر ہوتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


