نئی دہلی (15 فروری 2026): مصنوعی ذہانت کی مقبولیت کے بعد عموماً دنیا بھر کے ملازمین میں یہ خوف پیدا ہو گیا ہے کہ کیا اے آئی ان سے ان کی نوکریاں چھین لے گا، بھارت میں ہونے والے حالیہ سروے میں اس کے برعکس صورت حال دیکھنے کو ملی ہے۔
ایک نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق آئی ٹی شعبے میں نوکریاں فی الحال اے آئی کی وجہ سے ختم نہیں ہو رہیں، مصنوعی ذہانت بڑے پیمانے پر ملازمین کی جگہ نہیں لے رہی بلکہ کام کے طریقوں کو بدل رہی ہے اور مہارتوں کی نوعیت تبدیل کر رہی ہے۔
یہ تحقیق انڈین کونسل آف ریسرچ آن انٹرنیشنل اکنامک ریلیشنز (آئی سی آر آئی ای آر) نے اوپن اے آئی کے تعاون سے تیار کی ہے۔ رپورٹ کا عنوان ہے: ’’اے آئی اور نوکریاں: یہ وقت مختلف نہیں ہے‘‘۔ اس میں کہا گیا ہے کہ آئی ٹی سیکٹر میں حالیہ برطرفیوں کو براہِ راست اے آئی سے جوڑنا درست نہیں۔
مائیکروسافٹ اے آئی چیف نے وائٹ کالر ملازمیں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی
سروے نومبر 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان کیا گیا۔ اس میں ہندوستان کے 10 شہروں کی 650 آئی ٹی کمپنیوں کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے بھرتیوں کے رجحانات، کاروباری طلب، پیداواری صلاحیت اور مطلوبہ مہارتوں کا تجزیہ کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اے آئی نے کام کو زیادہ منظم اور تیز بنا دیا ہے، اس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا، اور اس نے انسانی ملازمین کو بڑی تعداد میں بے روزگار نہیں کیا۔
البتہ انٹری لیول کی بھرتیوں میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے، اس کے برعکس درمیانی اور سینئر سطح کی بھرتیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ آئی ٹی شعبے کے مجموعی رجحانات کووڈ سے پہلے کے رجحانات جیسے ہی ہیں۔ اے آئی نے اس ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل نہیں کیا۔
رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ جن ملازمتوں میں آٹومیشن زیادہ ممکن ہے، وہ نسبتاً زیادہ خطرے میں ہیں۔ لیکن سافٹ ویئر ڈویلپرز، ڈیٹا انجینئرز اور ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹرز جیسے تکنیکی عہدوں کی مانگ بڑھی ہے۔
مجموعی طور پر نتیجہ یہ ہے کہ اے آئی نوکریاں ختم نہیں کر رہا بلکہ مہارتوں کی نوعیت بدل رہا ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ افرادی قوت نئی ٹیکنالوجی کے مطابق خود کو ڈھالے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


