بدھ, فروری 11, 2026
اشتہار

اے آئی کے پیچھے ایٹمی توانائی؟ میٹا کے معاہدوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

اشتہار

حیرت انگیز

اوہائیو (13 جنوری 2026): مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا سینٹرز کے پھیلاؤ نے امریکا میں بجلی کی طلب میں خلل ڈال دیا ہے، اور میٹا نے بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے ایٹمی توانائی کے معاہدے کر لیے ہیں۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے میٹا کمپنی نے ایٹمی توانائی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی نے وسطی امریکا میں توانائی فراہم کرنے والی کمپنی فیسٹرا کے 3 ایٹمی بجلی گھروں سے بجلی خریدنے کے لیے 20 سالہ معاہدے کر لیے ہیں۔

میٹا کے مطابق یہ بجلی ریاست اوہائیو میں واقع پیری اور ڈیوس-بیس ایٹمی پلانٹس، جب کہ پنسلوینیا کے بیور ویلی ایٹمی پلانٹ سے حاصل کی جائے گی۔ ان معاہدوں کے تحت اوہائیو کے دونوں پلانٹس کی توسیع اور ان کی مدتِ کار میں اضافے کے لیے مالی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔ ان پلانٹس کو کم از کم 2036 تک کام کرنے کی اجازت حاصل ہے، جب کہ بیور ویلی پلانٹ کے ایک ری ایکٹر کا لائسنس 2047 تک مؤثر ہے۔

میٹا نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ نئی نسل کے چھوٹے ماڈیولر ایٹمی ری ایکٹرز کی تیاری میں سرمایہ کاری کرے گی۔ یہ ری ایکٹرز ارب پتی بل گیٹس کی حمایت یافتہ کمپنیوں اوکلو اور ٹیرا پاور تیار کر رہی ہیں۔

چین نے بجلی بنانے کا نیا طریقہ ایجاد کرلیا

چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز روایتی ایٹمی پلانٹس کے مقابلے میں کم سائز کے ہوتے ہیں اور ضرورت کے مطابق نصب کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ مستقبل میں سستے ثابت ہوں گے کیوں کہ انھیں فیکٹریوں میں تیار کیا جا سکتا ہے، تاہم ناقدین کے مطابق یہ بڑے ری ایکٹرز جیسی لاگت کی بچت حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔

فی الحال امریکا میں کوئی بھی چھوٹا ماڈیولر ایٹمی ری ایکٹر تجارتی بنیادوں پر کام نہیں کر رہا، اور ان منصوبوں کے لیے سرکاری اجازت درکار ہوگی۔ میٹا کے عالمی امور کے سربراہ جوئیل کپلن کے مطابق، یہ منصوبے اور گزشتہ برس ایلی نوائے میں ایک ایٹمی ری ایکٹر کو مزید 20 سال تک فعال رکھنے کے معاہدے، میٹا کو امریکی تاریخ میں ایٹمی توانائی خریدنے والی نمایاں ترین کمپنیوں میں شامل کر دیں گے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ان معاہدوں کے نتیجے میں 2035 تک میٹا کو مجموعی طور پر 6.6 گیگا واٹ ایٹمی بجلی دستیاب ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ ایک عام ایٹمی ری ایکٹر تقریباً ایک گیگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔

میٹا نے بتایا کہ وہ ٹیرا پاور کے دو ایٹمی ری ایکٹرز کی تیاری میں بھی مالی معاونت کرے گی، جو 2032 تک 690 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ اس معاہدے کے تحت میٹا کو 2035 تک ٹیرا پاور کے مزید چھ ری ایکٹرز سے بجلی حاصل کرنے کا حق بھی حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ، اوکلو کمپنی کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے میٹا کو امید ہے کہ 2030 تک ریاست اوہائیو میں 1.2 گیگا واٹ تک بجلی پیدا کی جا سکے گی۔

میٹا اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں طویل المدت توانائی کے ذرائع تلاش کر رہی ہیں، کیوں کہ امریکا میں دو دہائیوں بعد پہلی بار بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کا پھیلاؤ ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں