جمعہ, جولائی 10, 2026
اشتہار

کیا اے آئی روبوٹس کی تربیت لوگوں کا روزگار چھین لے گی؟

اشتہار

حیرت انگیز

بھارت میں لوگ اپنے گھریلو کاموں کی ویڈیوز  کے ذریعے اے آئی روبوٹس کو روزمرہ کے کام سکھا رہے ہیں، جس کا انہیں  ڈالرز کی صورت میں معقول معاوضہ بھی ملتا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی) اب گھریلو اور صنعتی ملازمتوں کی دنیا بدلنے لگی ہے، بھارت میں ہزاروں افراد ویڈیوز کے معاوضے کے بدلے اے آئی روبوٹس کو تربیت دینے میں مصروف عمل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روبوٹکس کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ایک نیا شعبہ روزگار سامنے آیا ہے، جہاں ہزاروں افراد روبوٹس کو انسانی انداز میں کام سکھانے کے لیے اپنی روزمرہ سرگرمیاں ریکارڈ کر رہے ہیں۔

training AI robots

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیڈ کیمرے لگا کر روزمرہ کاموں کی ویڈیوز ریکارڈ کی جا رہی ہیں، یہی ڈیٹا مستقبل کے ہیومنائیڈ روبوٹس کی بنیاد بنے گا۔

جنوبی بھارتی ریاست تامل ناڈو کے شہر چنئی سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ ناگیریڈی سری رامیا چندرا اپنے سر پر اسمارٹ فون باندھ کر آم کاٹنے، کپڑے تہہ کرنے اور دیگر گھریلو کاموں کی ویڈیوز بناتی ہیں۔ ان ویڈیوز کے بدلے  انہیں فی گھنٹہ تقریباً 250 بھارتی روپے (دو ڈالر سے زائد) معاوضہ ملتا ہے۔

یہ ویڈیوز دراصل ’ایگو سینٹرک ڈیٹا‘ کہلاتی ہیں جو انسانی نقطۂ نظر سے ریکارڈ کی جاتی ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس حقیقی دنیا میں انسانوں کی حرکات و سکنات کو سمجھ سکیں اور ان کی نقل کرسکیں۔

 Indian workers training

امریکی اور بھارتی دفاتر رکھنے والی اے آئی ڈیٹا کمپنی آبجیکٹ ویز ایسی ہی ویڈیوز عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو فراہم کرتی ہے۔

کمپنی کے سربراہ روی شنکر کے مطابق صارفین کی جانب سے کپڑے تہہ کرنے، کافی بنانے، سینڈوچ تیار کرنے اور دیگر گھریلو کاموں کی ویڈیوز کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض کام روبوٹس کے سپرد ہونے چاہییں تاکہ انسان زیادہ اہم اور تخلیقی سرگرمیوں پر توجہ دے سکیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تامل ناڈو کے شہر کرور میں ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں کئی کارکن ہیڈ کیمرے اور اسمارٹ چشمے پہن کر کام کرتے دکھائی دیے، جہاں ان کی حرکات کو روبوٹک سسٹمز کی تربیت کے لیے ریکارڈ کیا جا رہا تھا۔

Indian workers AI robots

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت مصنوعی ذہانت کے لیے ڈیٹا جمع کرنے، پراسیسنگ اور اینوٹیشن کا عالمی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ بنگلورو میں قائم انڈین انسٹیٹیوٹ فار ہیومن سیٹلمنٹس کی محقق ادیتی سوری کے مطابق آئندہ برسوں میں ایسے ڈیٹا کلیکشن منصوبوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

دوسری جانب ماہرین اور حکومتی ادارے اس خدشے کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ آٹومیشن کے باعث بعض روایتی ملازمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔

بھارتی سرکاری تھنک ٹینک نیتی آیوگ نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اثرات پر ہونے والی بیشتر بحث سفید پوش ملازمین تک محدود ہے جبکہ ملک کے تقریباً 49 کروڑ غیر رسمی شعبے کے کارکنوں پر اس کے اثرات پر کم توجہ دی جا رہی ہے۔

 AI robots take their jobs

بنگلورو میں گزشتہ دس برس سے پھولوں کے ہار بنانے والی 55 سالہ پونی بھی ان افراد میں شامل ہیں جن کی روزمرہ سرگرمیاں روبوٹس کی تربیت کے لیے ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ان جیسے پیشوں سے وابستہ افراد کو نئی ٹیکنالوجی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ادھر اے آئی انڈسٹری سے وابستہ بعض ماہرین اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ روبوٹس انسانوں کی ملازمتیں مکمل طور پر ختم کر دیں گے۔ بنگلورو کی کمپنی ہیومن لیبز کے منیش اگروال کے مطابق مستقبل میں انسان اور روبوٹ ایک دوسرے کے معاون کے طور پر کام کریں گے، جہاں ایک بھارتی ویلڈر ممکنہ طور پر کسی دوسرے ملک میں موجود ویلڈر روبوٹ کی نگرانی کر رہا ہوگا۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی یہ پیش رفت دنیا بھر میں کام کے انداز، روزگار کے مواقع اور صنعتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں