برمنگھم یونیورسٹی کی نئی تحقیق کے مطابق ایئر فرائیر کھانا پکاتے وقت نقصان دہ ذرات اور آلودگی کم پیدا کرتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ایئر فرائینگ، روایتی فرائینگ اور ڈیپ فرائینگ کے مقابلے میں ہوا میں کم آلودگی پھیلاتی ہے۔ یہ مطالعہ سائنسی جریدے ES&T Air میں شائع ہوا، جس میں ایئر فرائیرز سے خارج ہونے والی آلودگی کی مکمل ساخت کا جائزہ لیا گیا۔
یہ تحقیق اس لیے اہم ہے کیوں کہ ایئر فرائیرز اب دنیا بھر کے گھروں میں عام ہو چکے ہیں، تجربات سے ثابت ہوا کہ ایئر فرائیر سے وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز (VOCs) اور باریک ذرات کی مقدار کم خارج ہوتی ہے۔
پہلے کی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ ایئر فرائیر میں چکن پکانے سے مضر نامیاتی مرکبات کم بنتے ہیں، اس بار تحقیق کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ زیادہ چکنائی والے کھانے ہوا کے معیار کو کس حد تک متاثر کرتے ہیں۔
شارٹ ویڈیوز کیوں نوجوانوں کو ذہنی طور پر کمزور بنا رہی ہیں؟
محققین نے خاص چیمبرز میں مختلف کھانے پکا کر ہوا کے معیار کی باریک تبدیلیوں کو ریکارڈ کیا، تجربات میں منجمد کھانے، کم چکنائی والے تازہ کھانے اور زیادہ چکنائی والے کھانے شامل تھے۔
ایئر فرائیر میں کچھ کھانوں، خاص طور پر منجمد پیاز کے چھلوں اور بیکن سے زیادہ اخراج دیکھا گیا، جب یہی زیادہ چکنائی والے کھانے ڈیپ فرائیر میں پکائے گئے تو آلودگی 10 سے 100 گنا تک بڑھ گئی۔ ماہرین کے مطابق ایئر فرائیر اندرونی ہوا کے معیار کے لیے زیادہ محفوظ انتخاب ہے۔
تحقیق کی سربراہ کے مطابق چکنائی والے کھانے ایئر فرائیر میں بھی اخراج بڑھاتے ہیں، مگر مقدار پھر بھی کم رہتی ہے۔
لیکن واضح رہے کہ بار بار استعمال اور مناسب صفائی نہ ہونے کی صورت میں ایئر فرائیر خالی حالت میں بھی آلودگی خارج کر سکتا ہے۔ 70 سے زائد بار استعمال کیے گئے ایئر فرائیر میں مضر مرکبات اور باریک ذرات نمایاں طور پر بڑھ گئے۔ یہ آلودگی ان باقیات کی وجہ سے ہوتی ہے جو مشکل جگہوں پر جمع ہو جاتی ہیں۔
مطالعے میں تمام کیمیائی مرکبات کا جائزہ لیا گیا اور ان کی مقدار محفوظ حد کے اندر پائی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایئر فرائیر کی مکمل صفائی نہ کی جائے تو اس کے فضائی فوائد کم ہو سکتے ہیں۔ اس تحقیق نے کمپنیوں کو مشورہ دیا ہے کہ ایئر فرائیرز کا ڈیزائن ایسا ہو کہ گہری صفائی آسان ہو سکے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


