site
stats
ماحولیات

فضائی آلودگی سے قلم کی سیاہی تیار

آپ یقیناً اپنے شہر کی آلودگی سے بہت پریشان ہوں گے۔ گاڑیوں کا دھواں، مٹی اور آلودگی انسانی جسم پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اس آلودگی سے کوئی ایسی چیز تخلیق کی جائے جو فائدہ مند ثابت ہو؟

حال ہی میں ماہرین نے فضائی آلودگی کے اہم جز کاربن سے ایک کارآمد شے تخلیق کرنے پر کام شروع کیا ہے، وہ شے کچھ اور نہیں بلکہ سیاہی ہے۔

air-ink-1

ایئر انک نامی یہ سیاہی میسا چوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے تیار کی ہے۔

carbon

اسے تیار کرنے کے لیے کار کے ایگزاسٹ (دھواں خارج کرنے والے سائلنسر) سے کاربن اکٹھی کی جاتی ہے جس کے بعد اسے مختلف کیمیائی عوامل کے ذریعے سیاہی میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: فضائی آلودگی کن کن نقصانات کا سبب بنتی ہے؟

کار سے 45 منٹ کے کاربن اخراج سے ایک اونس سیاہی تیار کی جاسکتی ہے اور اس سیاہی سے مصوری سمیت کوئی بھی تخلیقی کام کیا جاسکتا ہے۔ گویا اب آلودگی تخلیقی کاموں میں معاون ثابت ہوگی۔

air-ink-2

یاد رہے کہ گاڑیوں سے نکلنے والے دھویں میں کاربن کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جو فضا کو آلودہ اور زہریلا بنا دیتی ہے۔

اس سے قبل بھی امریکی ماہرین نے ایک تکنیک متعارف کی تھی جس کے ذریعے کاربن کو کنکریٹ کی شکل میں تبدیل کر کے تعمیری مقاصد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اسے تیار کرنے کے لیے چمنیوں کے ذریعہ دھواں جمع کیا گیا اور بعد ازاں ان میں سے کاربن کو الگ کر کے اسے لیموں کے ساتھ ملا کر تھری ڈی پرنٹ کیا گیا۔ اس طرح ماحول اور صحت کو نقصان پہنچانے والی گیس تعمیری اشیا میں تبدیل ہوگئیں۔

آئس لینڈ میں کیے جانے والے ایک اور تجربے میں سائن سدانوں نے کاربن گیس کو پانی کے ساتھ مکس کر کے زیر زمین گہرائی میں پمپ کیا۔ اسے اتنی گہرائی تک پمپ کیا گیا جہاں آتش فشاں کے ٹھوس پتھر موجود ہوتے ہیں اور وہاں یہ فوری طور پر ٹھوس پتھر میں تبدیل ہوگیا۔

ماہرین کے مطابق کاربن سے تیار شدہ یہ پتھر بھی تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: فضائی آلودگی دماغی بیماریاں پیدا کرنے کا باعث

یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق فضائی آلودگی ہر سال 50 لاکھ سے زائد افراد کی موت کی وجہ بن رہی ہے۔ صرف چین میں ہر روز 4 ہزار (لگ بھگ 15 لاکھ سالانہ) افراد بدترین فضائی آلودگی کے سبب موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسف کا کہنا ہے کہ دنیا کا ہر 7 میں سے ایک بچہ بدترین فضائی آلودگی اور اس کے خطرات کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق فضا میں موجود آلودگی کے ذرات بچوں کے زیر نشونما اندرونی جسمانی اعضا کو متاثر کرتے ہیں۔

ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی نہ صرف طبی مسائل کا باعث بنتی ہے، بلکہ یہ کسی ملک کی معیشت کے لیے بڑے خسارے کا سبب بھی بنتی ہے۔ سنہ 2013 میں فضائی آلودگی کی وجہ سے مختلف ممالک کی معیشتوں کو مجموعی طور پر 225 بلین ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top