The news is by your side.

Advertisement

پی آئی اے ملازمین کی برطرفی، ایمپلائزیونین نے تحفظات کا اظہارکردیا

کراچی : ائیرلیگ آف پی آئی اے ایمپلائز یونین کے مرکزی صدر شمیم اکمل اور سیکریٹری جنرل ناصر مہدی جنجوعہ نے پی آئی اے کی نجکاری اور ملازمین کو نکالے جانے والی خبروں کے حوالے سے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے افواہوں کی زد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا چئیرمین پی آئی اے نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ایک دفعہ پھر پی آئی اے کا صنعتی امن تباہ ہو اور ملازمین اپنے حقوق کے لئے ایک دفعہ پھر باہر نکلیں؟ اور اگر ایسی خبریں حقائق کے منافی ہیں تو چئیرمین پی آئی اے کو چاہیئے کے فی الفور ملازمین کی نمائندہ جماعتوں کو بلا کر ایک میٹنگ کریں اور میڈیا میں چھپنے والی ان خبروں کی تردید کریں۔

ایک طرف جب کہ حکومت وقت پی آئی اے کو سنبھالنے اور اس کے مالی بحرانوں کو ختم کرنے کے لئے مختلف مثبت اقدامات اٹھا رہی ہے جس کی بہترین مثال پریمئیر سروس کا افتتاح ہے جس نے پی آئی اے کا میج ایک دفعہ پھر اپنے صارفین میں بہتر کیا ہے اور نئے روٹس دوبارہ کھولے جا رہے ہیں جن میں بارسلونا، بینکاک ، ہانگ کانگ وغیرہ شامل ہیں جبکہ نیویارک اور پیرس کی فلائٹس میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

ٹورنٹو کی فلائٹس میں اضافہ کیا جا چکا ہے۔ نئے جہاز پی آئی اے کو لے کر دیئے ہیں اور مزید نئے دس جہازوں کے لئے ٹینڈر دیا جا چکا ہے اور اس کے باوجود اگر پی آئی اے کا مالی خسارہ کم نہیں ہو پا رہا اور پی آئی اے کی حالت نہیں سنبھل رہی تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟

اے آر و ائی نیو زکو شمیم اکمل نے بتا یا کہ ہر ناکامی اور نااہلی کا ملبہ یونین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ جبکہ یونین انتظامی معاملات میں کہیں شامل نہیں ہوتی۔ نہ یونین سے پوچھ کر بزنس پالیسیز مرتب کی جاتی ہیں اور نہ ہی انتظامی امور میں یونین کا کوئی نمائندہ شامل ہوتا ہے۔

موجودہ حج آپریشن کو کامیاب بنانے کے لئے یونین کے عہدیداروں اور ورکرز نے بھرپور تعاون کیا جس کا اعتراف خود انتظامیہ نے بھی کیا ہے مگر حیرت انگیز طور پر انتظامی پالیسوں کی ناکامیوں کا ملبہ یونین اور ملازمین ہر ڈال دیا جاتا ہے۔

جب یونین کسی مارکیٹنگ پلان یا بزنس پالیسیز کا حصہ نہیں ہوتی تو پھر یونین پی آئی اے کو ہونے والے خسارے کی ذمہ دار کیسے ہے؟ وہ نان اسٹیٹ ایکٹرزجنہیں پی آئی اے میں بھاری ماہانہ تنخواہوں پر رکھا گیا ہے ان کی پی آئی اے کے لئے کیا کارکردگی ہے؟

جو سال کے آٹھ ماہ بیرونی دوروں اور سیر سپاٹے میں گزارتے ہیں اور اس مد میں کروڑوں روپے پی آئی اے سے اوسی ایس کی صورت میں وصول کرتے ہیں۔ جو پی آئی اے میں ہر وقت ملازمین کو ہراساں کرنے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہیں اور پی آئی اے کے دوسرے شعبہ جات میں جو ان کے ماتحت نہیں اتے ان میں بے جا مداخلت کرتے ہیں۔

انہوں نے پی آئی اے کے لئے کیا خدمات انجام دیں؟ ان کی کرکردگی کا محاسبہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ایک ایسے وقت میں جب پی آئی اے کا مالی بحران شدید ہوتا جارہا ہے مختلف افواہوں کے ذریعے ملازمین میں خوف و ہراس اور بددلی پیدا کی جارہی ہے جس سے ملازمین کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

ایسے حالات نہ صرف حکومت کی بدنامی کا باعث بن رہے بلکہ اس سے ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے اور ملازمین سخت ذہنی اذیت اورکرب کا شکار ہیں۔ ائیرلیگ بحثیت ملازمین کے سودا کاری ایجنٹ کے چئیرمین پی آئی اے سے بھرپور مطالبہ کرتی ہے کے حقائق سامنے لائیں جائیں اور جو لوگ پی آئی اے کی موجودہ صورت حال اور مالی خساروں کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے اور پی آئی اے کی بحالی اور ترقی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم حکومت وقت سے بھی اپیل کرتے ہیں کے حکومت کے لوث اور بے مثال اقدامات اور مالی مدد کے باوجود اگر پی آئی اے اپنے پاؤں پہ کھڑی نہیں ہو پارہی تو ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ان کا کڑا احتساب کیا جائے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں