The news is by your side.

Advertisement

نیوزی لینڈ اور امریکا کے درمیان کیا ہونے جارہا ہے؟

نیوزی لینڈ کی سرکاری ایئر لائن اپنے کیریئر کی سب سے طویل پرواز کا آغاز کرنے جارہی ہے۔

نیوزی لینڈ نے کم وبیش دو سال عالمی وبا کرونا سے نمٹنے کے لئے سخت ایس او پیز نافذ کئے رکھے اب حال ہی میں نیوزی لینڈ کی حکومت نے اپنی فضائی حدود کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ، جس کی وجہ ملک کی سیاحت کی صنعت کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایئر نیوزی لینڈ نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ آکلینڈ اور نیویارک کے درمیان براہ راست پروازوں کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، طویل دورانیے کی یہ فلائٹس رواں برس 17 ستمبر سے آکلینڈ سے شروع ہوں گی۔

آکلینڈ سے چلنے والی پروازوں کا نمبر ’این زیڈ ٹو‘ اور نیویارک سے روانہ ہونے والی پروازوں کو ’این زیڈ ون‘ کا نمبر دیا گیا ہے، ان نمبروں کے مطابق اندازہ ہوتا ہے کہ یہ نیا روٹ ایئر نیوزی لینڈ کے لیے کتنا اہم ہے اور اور یہ خبر اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ نیوزی لینڈ بتدریج عالمی سیاحت کے لیے کھل رہا ہے۔

ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر گریگ فورین نے ایک بیان میں کہا کہ ’روایتی طور ایک اور دو نمبر ایئرلائن کے فلیگ شپ روٹ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اور نیویارک ہمارے لیے فلیگ شپ روٹ ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں شہروں کے درمیان ہفتے میں بوئنگ 787 ڈریم لائنر کی تین فلائٹس چلیں گی، ایئر نیوزی لینڈ کی ویب سائٹ پر ان ٹکٹوں کی فروخت شروع ہوچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کے ساتھ امریکی تعلقات میں دراڑ پڑ گئی

گریگ فورین کا کہنا تھا کہ ہم نے اس طویل دورانیے کی فلائٹ کو ممکن بنانے کے لیے گذشتہ چند برس بہت محنت کی ہے، نیویارک پہنچنے تک مسافروں کو تازہ دم رکھنے کے لیے ہم سفر کو خوش گوار بنانے کے انتظامات مکمل کرنے جارہے ہیں ہماری تجربہ کار ٹیمیں اسے بہترین بنانے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ نیویارک سے آکلینڈ کی پرواز کا دورانیہ 17 گھنٹے 35 منٹ پر محیط ہوگا جو دنیا کی سب سے طویل فلائٹس میں سے ایک ہے۔

یاد رہے کہ اس وقت دنیا میں سب سے طویل دورانیے کی فلائٹ سنگاپور اور امریکی ایئرپورٹ جے ایف کینیڈی کے درمیان چلتی ہے جس کا دورانیہ 18 گھنٹے ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں