The news is by your side.

Advertisement

فضائی و صوتی آلودگی کے باعث ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ

پیرس: ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک فضائی طور پر آلودہ شہروں میں رہنے والے افراد میں بلند فشار خون میں مبتلا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: بدترین فضائی آلودگی کا شکار 10 ممالک

اس تحقیق کے لیے طبی و سائنسی ماہرین نے یورپ میں رہائش پذیر 41 ہزار افراد کا تجزیہ کیا۔ تحقیق کے بعد انہوں نے نتائج پیش کیے کہ شہروں میں مختلف اقسام کی آلودگی وہاں کے رہائشیوں میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔

ماہرین نے واضح کیا کہ اس میں صوتی یعنی شور کی آلودگی کا بھی ایک بہت بڑا ہاتھ ہے جو بلند فشار خون کا باعث بنتی ہے اور اس کی وجہ سے قبل از موت واقع ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا آپ خاموشی کے فوائد جانتے ہیں؟

تحقیق کے لیے 5 یورپی شہروں ناروے، سوئیڈن، ڈنمارک، جرمنی اور اسپین کے رہائشیوں کا 5 سے 9 برس تک جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس شہر کی ہفتہ وار بنیاد پر ہوا کے معیار کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ماہرین نے دیکھا کہ وہ علاقے جن میں ہوا کا معیار خراب ہوگیا اور اس میں آلودہ عناصر بڑھ گئے اس علاقے کے رہائشیوں میں ہائی بلڈ پریشر کی ابتدائی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئیں۔

مزید پڑھیں: آلودگی سے سڑکوں اور پلوں کی تعمیر ممکن

ماہرین نے واضح کیا کہ شور کی آلودگی اور فضائی آلودگی نے مجموعی طور پر خون کے بہاؤ پر خطرناک اثرات مرتب کیے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کئی بار فضائی آلودگی کے انسانی صحت پر خطرناک اثرات کے بارے میں آگاہ کیا جاچکا ہے۔

اس سے قبل ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ فضائی آلودگی انسانی دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے اور یہ مختلف دماغی بیماریوں جیسے الزائمر وغیرہ کا سبب بن سکتی ہے۔ ریسرچ کے مطابق ایک دماغی اسکین میں فضا میں موجود آلودہ ذرات دماغ کے ٹشوز میں پائے گئے تھے۔

ایک اور تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی ان لوگوں پر خاص طور پر منفی اثرات ڈالتی ہے جو کھلی فضا میں کام کرتے ہیں جیسے مزدور اور کسان وغیرہ۔ ماہرین کے مطابق یہ کھلی فضا میں کام کرنے والے افراد کی استعداد کو متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں ان کی کارکردگی میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں