The news is by your side.

Advertisement

فضائی آلودگی سے کتنے لاکھ بچوں کی اموات ہوئیں، ہولناک انکشاف

نیویارک: بین الاقوامی ادارے اسٹیٹ آف گلوبل ایئر نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برس فضائی آلودگی کی وجہ سے 5 لاکھ نوازئیدہ بچے ہلاک ہوئے۔

اسٹیٹ آف گلوبل ایئرکی جانب سے جاری ہونے والے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2019 میں فضائی آلودگی سے دنیا بھر میں 4 لاکھ 76 ہزار کے قریب بچوں کی اموات ہوئیں۔ اموات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بھارت جبکہ سہارا افریقہ متاثر ہونے والا دوسرا ملک ہے۔

فضائی آلودگی کے حوالے سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو تہائی بچوں کی اموات کھانا پکانے کے لیے استعمال کیے جانے والے غیر معیاری ایندھن سے نکلنے والے خطرناک دھوئیں کی وجہ سے ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ برس 50 ہزار کے قریب نوازائیدہ بچوں اموات ہوئیں۔

نوزائیدہ بچوں پر فضائی آلودگی کے اثرات کے حوالے سے یہ پہلا جامع تجزیہ ہے۔ اس تحقیق میں پہلی مرتبہ ایک ماہ سے کم عمر کے بچوں کی اموات کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق جب ماں جب فضائی آلودگی سے متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر بالخصوص اُن بچوں پر پڑھتا ہے جو قبل ازوقت پیدا ہوئے یا پھر پیدائش کے وقت اُن کا وزن کم تھا۔

ماہرین کے مطابق ایسے بچے پہلے ہی ماہ میں موت کا شکور ہوگئے جبکہ زندہ رہنے والوں کے لیے صحت کے مسائل پیدا ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اموات کا یہ تخمینہ امریکا میں قائم ہیلتھ ایفیکٹس انسٹی ٹیوٹ اور انسٹی ٹیوٹ برائے ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلیوایشن کے عالمی بوجھ آف بیماریوں کے پروجیکٹ نے پیش کیا ہے۔

تحقیقی ماہرین نے رپورٹ میں انکشاف کیا کہ فضائی آلودگی حاملہ خواتین کے لیے بہت خطرناک ہے کیونکہ اس کا براہ راست اثر پیدا ہونے والے بچے پر پڑھتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس فضائی آلودگی کی وجہ سے دنیا بھر میں 67 لاکھ اموات ہوئیں، جن کی اہم وجہ ہائی بلڈ پریشر، تمباکو اور ناقص خوراک کا استعمال ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں