The news is by your side.

Advertisement

فضائی آلودگی سے حمل ضائع ہونے کا خدشہ

بیجنگ: چینی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی یا فضائی آلودگی حمل ضائع ہونے کا سبب بن رہی ہے ، اس سلسلے میں 10 سالوں کے دوران 17 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔

چین کی بریتھ لائف نامی تنظیم کی جانب سے بیجنگ سمیت دیگر شہروں میں بڑھنے والی آلودگی کے حوالے سے تحقیقاتی مطالعے کا انعقاد کیا گیا جس کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ فضائی آلودگی سے قبل از اموات، سانس کی بیماریوں کے واقعات تو سامنے آرہے ہیں البتہ ایک تشویشناک بات یہ ہے کہ اس کی وجہ سے حمل بھی ضائع ہورہے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ چین کے دارالحکومت میں رہنے والا بالغ شخص ایک گھنٹے کے دوران بیس ہزار مرتبہ سانس لے کر خطرناک کیمیائی زرات کی خطرناک مقدار کو جسم میں منتقل کررہاہے۔

رپورٹ کے مطابق بیجنگ کی فضاء میں انسانی زندگی کو نقصان پہنچانے والے کیمیائی مادوں کی بین الاقوامی سطح سے 7.2 فیصد زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: ماحولیاتی آلودگی کے باعث ذیابیطس کا مرض تشویشناک حد تک بڑھ گیا، تحقیق

ماہرین کے مطابق حاملہ خواتین جب ایسی فضا میں سانس لیتی ہیں تو اُن کا حمل ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ سائنسی جریدے نیچر اسسٹینیبیلیٹی میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ میں آلودہ فضا میں سانس لینے کو ‘حمل کا خاموش قاتل‘ قرار دیا گیا ۔

تحقیقاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کے باعث قبل از وقت پیدائش، بچے کے وزن میں کمی اور  سانس کی بیماریوں سمیت حاملہ خواتین کے لیے پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے’’فضائی آلودگی حمل ضائع ہونے کے حوالے سے خاموشی سے اپنا کردار ادا کررہی ہے، اس کی وجہ سے بچہ ماں کے رحم میں مرجاتا ہے یا پھر اُس کی افزائش رک جاتی ہے‘‘۔ ماہرین نے فضائی آلودگی کے حاملہ خواتین پر ہونے والے اثرات کے حوالے سے مزید تحقیقات کرنے کا بھی اعلان کیا۔

سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کی مختلف جامعات سے وابستہ ماہرین نے بیجنگ شہر میں سن 2007 سے 2017 تک ڈھائی لاکھ حاملہ خواتین کی معلومات جمع کیں جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 17 ہزار 499 حمل فضائی آلودگی کی وجہ سے ضائع ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا میں ہرسال 70 لاکھ افرادفضائی آلودگی کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جو خواتین کسان یا مزدوری کے کام سے وابستہ ہیں، اور اُن کی عمریں 39 برس سے زائد ہیں، اُن کے فضائی آلودگی کی وجہ سے حمل ضائع ہونے کے زیادہ کیسز دیکھے گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں