The news is by your side.

سیاحت میں اضافہ، مشرق وسطیٰ کا ایئر ٹریفک بڑھ گیا

رواں سال مشرق وسطیٰ سے بین الاقوامی روٹس پر جانے والی پروازوں میں 114.7 فیصد اضافہ ہوا، مجموعی طور پر دنیا بھر کے ایئر ٹریفک میں بھی رواں برس اضافہ ہوا ہے۔

اردو نیوز کے مطابق انٹرنیشنل ایئر ٹریفک اتھارٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال اکتوبر میں مشرق وسطیٰ کی فضائی کمپنیوں کی پروازوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں بین الاقوامی روٹس پر 114.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2021 کے مقابلے میں مشرق وسطیٰ کے خطے میں موجود تمام فضائی کمپنیوں کی صلاحیت میں 55.7 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ مسافروں کے تناسب میں بھی 21.8 فیصد سے 79.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

اکتوبر میں مشرق وسطیٰ کی ایئر لائنز کی کارکردگی ایشیا پیسیفک ایئر لائنز سے بہتر تھی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر کے مقابلے میں رواں سال اسی مہینے میں کل عالمی ایئر ٹریفک میں 44.6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ ایشیا پیسیفک اور مشرق وسطیٰ کے خطے میں ایئر ٹریفک میں نمایاں اضافہ ہے۔

آئی اے ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ویلی والش کا کہنا ہے کہ عام طور پر اکتوبر کے مہینے تک شمالی نصف کرہ ارض میں سیاحت میں کمی دیکھی جاتی تھی، اس لیے ڈیمانڈ اور بکنگز میں اضافہ انتہائی حوصلہ افزا ہے۔

آئی اے ٹی اے کے جنیوا میں سالانہ اجلاس کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل ویلی والش نے کہا کہ عالمی وبا کے بعد سے ایوی ایشن کا شعبہ دیگر ممالک کے مقابلے میں مشرق وسطیٰ اور ایشیائی خطے میں تیزی سے بحال ہو رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب سیاحتی مقام کے طور پر ابھرنے کا عزم رکھتا ہے جس کے نتائج سال 2023 اور 2024 میں ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔

آئی اے ٹی اے کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سال 2022 میں مشرق وسطیٰ کی ایئر لائنز کو 1.1 ارب ڈالر کا خسارہ ہو سکتا ہے تاہم سال 2023 میں 268 ملین ڈالر کی آمدنی کے ساتھ یہ مضبوطی کے ساتھ بحال ہوں گی۔

مشرق وسطیٰ میں صارفین کی جانب سے بھی فلائٹ بک کرنے کی طلب میں 23.4 فیصد اضافہ ہوگا۔

آئی اے ٹی اے کے مطابق 12 مہینے قبل کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو اکتوبر 2022 میں اندرونی فضائی سفر میں 0.8 فیصد کی کمی واقع ہوئی جس کی ایک وجہ چین میں کرونا وائرس سے متعلق سخت پابندیوں کا نفاذ ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر کے مقابلے میں رواں سال اکتوبر میں انٹرنیشنل ایئر ٹریفک 102.4 فیصد تک پہنچ گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں