سنگاپور (09 مارچ 2026): ایشیا کی حکومتیں ایران کی جنگ کے پھیلتے اثرات سے اپنی معیشتوں اور صارفین کو بچانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہی ہیں۔ پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا، کیوں کہ اہم پیداواری ممالک نے پیداوار کم کر دی جب کہ تہران نے اشارہ دیا کہ سخت گیر قیادت بدستور اقتدار میں رہے گی۔
جاپان میں ایک سینئر رکنِ پارلیمان نے اتوار کو بتایا کہ حکومت نے تیل کے قومی ذخیرے کو ممکنہ طور پر خام تیل جاری کرنے کی تیاری کا حکم دیا ہے، تاہم پیر کو جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری نے کہا کہ ابھی تک ذخائر جاری کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ جاپان اپنی تقریباً 95 فی صد تیل کی درآمدات مشرقِ وسطیٰ سے کرتا ہے اور اس کے پاس اتنے ذخائر موجود ہیں جو 354 دن تک استعمال کے لیے کافی ہیں۔
ویتنام نے ایندھن پر درآمدی ٹیکس ختم کر دیا ہے، جب کہ بنگلادیش نے بجلی اور ایندھن کی بچت کے لیے جامعات بند کر دی ہیں۔ اسی دوران چین نے گزشتہ ہفتے اپنی ریفائنریوں سے کہا کہ وہ ایندھن کی برآمدات روک دیں اور پہلے سے طے شدہ ترسیل کو بھی منسوخ کرنے کی کوشش کریں۔
جنوبی کوریا میں، جو اپنی تقریباً 70 فی صد تیل کی ضروریات مشرقِ وسطیٰ سے پوری کرتا ہے، صدر لی جے میونگ نے کہا کہ حکومت نے 30 سال میں پہلی بار ایندھن کی قیمتوں پر حد مقرر کر دی ہے، انھوں نے عوام کو گھبراہٹ میں ایندھن خریدنے سے خبردار کیا۔
اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں
روئٹرز کے مطابق پورے ایشیا میں، جہاں تقریباً 60 فی صد تیل مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے، اسٹاک مارکیٹوں میں کمی دیکھی گئی جب کہ امریکی ڈالر مضبوط ہو گیا۔ حکام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہے ہیں، جن میں اسٹریٹجک ذخائر جاری کرنا بھی شامل ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔
ایران نے پیر کے روز مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد علی خامنائی کے جانشین کے طور پر سپریم لیڈر نامزد کر دیا ہے، جس پر توقع ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ناراضی کا اظہار کریں گے۔ ہفتے کے آخر میں ایران کی تیل ذخیرہ گاہوں پر حملوں کے بعد خدشہ بڑھ گیا ہے کہ توانائی کی تنصیبات پر جوابی حملے بھی ہو سکتے ہیں۔
تیل کے تجزیاتی ادارے کپلر کے سینئر آئل اینالسٹ مویو شو نے کہا ’’اب تیل کی قیمتوں میں ایک مکمل طوفان کے تمام عوامل جمع ہو چکے ہیں، خلیج کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پیداوار میں کمی، آبنائے ہرمز کی طویل بندش اور موجودہ صورت حال کے جلد بہتر ہونے کے امکانات کے بارے میں بڑھتی ہوئی مایوسی۔‘‘
ذرائع کے مطابق عراق نے اپنے جنوبی بڑے تیل کے میدانوں سے پیداوار 70 فی صد کم کر کے 1.3 ملین بیرل یومیہ کر دی ہے۔ اسی طرح کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے ہفتے سے تیل کی پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے اور ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا ہے۔
دنیا کے دوسرے بڑے ایل این جی برآمد کنندہ قطر نے پہلے ہی مائع قدرتی گیس کی برآمدات روک دی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یو اے ای اور سعودی عرب کو بھی جلد تیل کی پیداوار کم کرنا پڑ سکتی ہے کیوں کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ان کے ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہو رہی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


