The news is by your side.

Advertisement

تین سو وکلا نے ڈیڑھ لاکھ کی برادری کو بدنام کردیا، اعتزاز احسن

لاہور : پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ تین سو وکلا نے ڈیڑھ لاکھ کی برادری کو بدنام کردیا، وکلاء کی جانب سے ایسے رویے کا اندازہ بالکل نہیں تھا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا, اعتزاز احسن نے کہا کہ واقعے میں زیادہ تر وہ وکلاء ملوث ہوں گے جو آئندہ بار الیکشنزمیں امیدوار ہونگے، بارالیکشن کیلئے ایشو کو استعمال کرناغلط بات ہے۔

آج لگ بھگ تین سو وکلا نے ڈیڑھ لاکھ کی برادری کو بدنام کردیا، آج ملوث کوئی وکیل بارالیکشن میں امیدوار ہے تو اسے ووٹ نہ دیا جائے، امید ہے وکلا آئندہ الیکشن میں اپنے ووٹ کادرست استعمال کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ہوتا تو پی آئی سی فوری طور پر پہنچ جاتا اور وکلا کوروکتا، بار کو جب بھی ضرورت پڑی میں ان کے لیےنکلا ہوں، جنگ میں بھی اسپتال پر حملےنہیں کیے جاتے، اندازہ نہیں تھا کہ وکلا3سے4کلومیٹر پیدل چل کراسپتال پر حملہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مریضوں پر پتھراؤ اور اسپتال کے شیشےتوڑے گئے، تیمارداروں پرتشدد اور گاڑیاں جلائی گئیں ایسا نہیں ہوناچاہیے تھا، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

پی پی رہنما نے کہا کہ وکلا کے رویے سے ڈاکٹرز بھی اسپتال چھوڑ کر چلے گئے، کالے کوٹ کی لوگ عزت کرتے ہیں،آج اس کی رسوائی کرائی گئی، بطور وکیل آج بہت شرمندگی ہورہی ہے دکھ محسوس کررہا ہوں۔

بار بینچ کی وجہ سے وکلا گردی مصلحت کا شکارہوجاتی ہے، ماتحت عدلیہ میں وکلا کادباؤ پڑجاتا ہے یہ درست ہے، اعلیٰ عدلیہ میں ایسانہیں ہونا چاہیے نہ ہوتا ہے، بار ایسوسی ایشنز نے ہڑتال کا وطیرہ بنا رکھا ہے، ہربات پر فوری عدلیہ کی ہڑتال کی جاتی ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

اعتزاز احسن  نے کہا کہ پنجاب بارکو ہڑتال کی کال نہیں دینی چاہیے تھی ہوسکتا ہے بہت سے وکلاہڑتال کی کال پر عمل نہ کریں۔

 حکومتی رٹ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ آج کے واقعے کی ذمہ داری حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے، وکلا پیدل چل کرنعرے لگاتے ہوئے آئےتھے، حکومت کو چاہیے تھا کہ فوری طور پر ان کو روکتے۔

اسپتال پر حملہ ہورہا تھا تو فوری طور پر اقدامات کیے جاتے، آج کے واقعےمیں ہمارا بھی قصورہے، ہمیں بہتری جانب جانا چاہیے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں