The news is by your side.

Advertisement

شہید اعتزازحسن کو ہم سے بچھڑے2برس گزر گئے

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔

یہ مقولہ شہید اعتزاز حسن نے سچ ثابت کیا، عزم و استقلال کے پیکر پندرہ سالہ اعتزاز نے آج سے ٹھیک دو برس پہلے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے سیکڑوں ساتھی طا لبعلموں کی جان بچائی اور دہشت گردوں کو بتا دیا کہ وہ قوم کے بچوں سے بھی نہیں لڑ سکتے ہیں۔

چھ جنوری دوہزار2014 ضلع ہنگو میں اعتزاز حسن نے اپنے اسکول میں داخل ہونے والے خودکش بمبار کو دبوچ کر متعدد طالب علموں کی جان بچائی اور خود اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

اسکول میں اسمبلی کے دوران جب خودکش بمبار سینکڑوں جانیں لینے کے لئے آگے بڑھا تو اعتزاز دشمن پر ساتھیوں کے منع کرنے با وجود جھپٹ پڑا اور اسے اس طرح جکڑا کہ دہشت گرد کی خود کش جیکٹ اڑ گئی اور دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں اعتزاز احسن شہید ہو گیا ۔

اعتزاز حسن کو 6ستمبر2015کو تمغہ شجاعت سے نوازا گیا، اعتزاز حسن کی شجاعت اور قربانی کے جذبےکو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں