The news is by your side.

Advertisement

عدلیہ کی شاعری کا مطلب ہے کہ ججز خوفزدہ ہیں، اعتزاز احسن

 اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ججز قلم سے زیادہ زبان سے فیصلے دینے لگیں تو میری نظر میں دائرے کار سے تجاوز ہے، عدلیہ کی شاعری کا مطلب  یہ ہے کہ ججز اپنے فیصلوں کے حوالے سے خوفزدہ ہیں۔

ان خیالات کا اظہار سینیٹر اعتزاز احسن نے سینیٹ میں اپنے الوداعی خطاب میں کیا، انہوں نے کہا کہ فرحت اللہ بابر کی تقریر سے 100 فیصد متفق ہوں کہ عدلیہ کو اپنے دائرے میں رہنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ فرحت اللہ بابر نے درست کہا فوج اور عدلیہ کو حدود میں رہنا چاہئے، عدلیہ شاعری کرنے لگے تو مطلب ہے یہ خوفزدہ ہیں، اداروں کا احترام کرتا ہوں مگر پہلے ہمیں اپنی کارکردگی بڑھانی ہے، ہم بڑے سفاک دشمن کا سامنا کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اعتبار سے جب گرفتار کیا گیا تب میں ایک سال کا تھا، 1964 سے آمروں کے خلاف جدوجہد کرتا آرہا ہوں، 1964 میں یونیورسٹی آرڈیننس کے خلاف جلوس نکالا تو حوالات میں بند ہوا۔

پیپلزپارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ 1977 سے 1988 تک پاکستان پر مارشل لا کا ایک گھناؤنا سایہ رہا، کوڑے پڑتے تھے، فوجی عدالتیں لگتی تھیں، کئی بار جیل گیا، کبھی لمبی جیل ہوتی تھی کبھی دو سے تین دن بعد چھوڑ دیتے تھے، کبھی جلوس میں جاتا تو گرفتاریاں ہوتی تھیں، جہاں جاتا تو بغاوت کا جھنڈا اٹھا کر میری بیوی جلوس جاری رکھتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ مشرف نے لالچ بھی دی، تین بار لائرز موومنٹ چھوڑنے کی پیشکش کی، مشرف نے کہا لائرز موومنٹ چھوڑ دو اور وزیر اعظم بن جاؤ، میں نے انکار کردیا، چار ڈکٹیٹر آئے چاروں کے خلاف میں نے عملی احتجاج کیا۔

ن لیگ کی عدلیہ پر تنقید کے حوالے سے سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ عدلیہ پر تنقید کرتے ہیں کہ پاناما سے اقامہ پر کیوں نااہل کردیا، آپ یوسف رضا گیلانی کو کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مانو، کہتے ہیں فیصلے کا احترام کرتے ہیں پھر بھی فیصلہ نامنظور کے نعرے لگوائے۔

نہال ہاشمی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہال ہاشمی ہمارا ساتھی تھا سمجھ نہیں آیا اسے ہوا کیا، انہوں نے جو زبان استعمال کی وہ بیان نہیں کرسکتا، جس قسم کی گالی دی وہ بولی بھی نہیں جاسکتی، نہال ہاشمی ہم میں سے تھے، ہم ایسی زبان استعمال کریں گے تو کیا ہوگا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں