The news is by your side.

Advertisement

‘پاکستانی فنکاروں کی حب الوطنی سے بھارتی سبق سیکھیں’

ممبئی: بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن نے اس امر پر افسردگی کا اظہار کیا ہے کہ بالی ووڈ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد اب بھی پاکستانی فنکاروں کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فنکار بھارت سے پیسہ کمانے کے باوجود اپنے وطن سے وفادار ہیں اور ہمیں ان سے سبق سیکھنا چاہیئے۔

حال ہی میں دیے جانے والے ایک انٹرویو میں اجے دیوگن نے بتایا کہ انہوں نے پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے پاکستانی اداکاروں پر پابندی کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے وہ کسی پاکستانی فنکار کے ساتھ کام نہیں کرسکتے۔

گلزار سے پاک بھارت کشیدگی پر سوال کرنا صحافی کو مہنگا پڑگیا *

جب ان سے کہا گیا کہ اس موقع پر بھی سلمان خان اور کرن جوہر نے پاکستانی فنکاروں پر پابندی کے فیصلے کی مخالفت کی ہے تو ان کا کہنا تھا، ’یہ ایک افسوسناک بات ہے۔ ہر بھارتی کو اس مشکل موقع پر اپنے وطن سے وفادار رہنا چاہیئے‘۔

انہوں نے کہا، ’پاکستانی فنکار یہاں سے کام کر کے پیسہ کما رہے ہیں لیکن وہ اپنے وطن کی حمایت میں کھڑے ہیں اور اس سے وفادار ہیں۔ ہمیں ان سے سبق سیکھنا چاہیئے‘۔

اجے دیوگن کی فلم ’شیوے‘ رواں ماہ دیوالی کے موقع پر کرن جوہر کی فلم’ اے دل ہے مشکل‘ کے ساتھ ریلیز ہونے جا رہی ہے اور فلمی پنڈتوں کو یقین ہے کہ کرن جوہر کی فلم کے آگے اجے دیوگن کی فلم بالکل ناکام ہوجائے گی۔

اوم پوری نے پاکستان کی حمایت میں بھارتی میڈیا کے چھکے چھڑا دیے *

اس حوالے سے اجے دیوگن کا کہنا تھا کہ ان کی فلم پاکستان میں بھی ریلیز ہونے جارہی تھی تاہم اب اس کا امکان نہیں، اور وہ اس سے قطعی پریشان نہیں ہیں۔ ’میرے لیے قوم کی حمایت میں کھڑے ہونا زیادہ اہم ہے‘۔

دوسری جانب اجے دیوگن کی اہلیہ اور معروف اداکارہ کاجل نے بھی اپنے شوہر کے فیصلے کی حمایت کی۔ اپنی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ ان کے شوہر نے ایک درست اور غیر سیاسی فیصلہ کیا۔

حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے موقع پر جب بھارت میں مسلمان اور پاکستان مخالف مہم اپنے عروج پر ہے اور پاکستانی فنکاروں کو پابندیوں اور دھمکیوں کا سامنا ہے، بالی ووڈ سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد نے اس موضوع پر مختلف تاثرات کا اظہار کیا۔

کوئی کھل کر پاکستان کی مخالفت اور پاکستانی اداکاروں پر پابندی کے فیصلے کو درست قرار دے رہا ہے، کوئی اس فعل کو غلط قرار دے کر اس کی مذمت کر رہا ہے۔ کچھ فنکار غیر جانبدار رہتے ہوئے امن کی خواہش اور دہشت گردوں کی مذمت تک محدود ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں