The news is by your side.

Advertisement

اکبر الٰہ آبادی کی برسی جن کے متعدد اشعار ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

اکبر الٰہ آبادی کا یہ شعر تقریر سے تحریر تک، مجبوری و بے بسی کو عیاں کرنے، طنز کرتے ہوئے اپنی مظلومیت اور حالت کو بیان کرتا چلا آرہا ہے۔ ایک یہی نہیں اکبر الہ آبادی کے متعدد اشعار ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں۔ آج اردو کے اس مشہور شاعر کی برسی ہے۔

9 ستمبر 1921 کو اکبر الٰہ آبادی وفات پاگئے تھے۔ اردو شاعری میں طنزیہ اور پُرمزاح انداز میں اصلاحی شاعری کرنے والے اکبر الٰہ آبادی نے ایک نئی طرز اپنائی جو انہی کے ساتھ تمام ہوئی۔ ان کا شمار ایسے شعرا میں‌ کیا جاتا ہے جنھوں‌ نے ہندوستان میں مغربی تہذیب کے اثرات پر اپنی طنزیہ شاعری کے ذریعے تنقید کی۔

اکبر الٰہ آبادی 1946 کو پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام اکبر حسین تھا۔ وکالت کا امتحان پاس کیا اور مختلف عہدوں‌ پر کام کرتے ہوئے 1894 میں سیشن جج کے عہدے پر فائز ہوئے۔ شعر گوئی کا شوق بچپن سے تھا۔ یہ سلسلہ جاری رہا اور اکبر نے اپنے دور کے حالات و واقعات اور ہندوستان میں‌ رونما ہونے والی تبدیلیوں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔‌

اکبر الٰہ آبادی کا کلام چار جلدوں پر مشتمل کلیاتِ اکبر میں‌ شامل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں