مشاہیرِ ادب کی آپ بیتیاں، سفر نامے اور ان کے تحریر کردہ ادبی تذکرے ہمیں نہ صرف ایک عہد کی داستان سناتے ہیں، بلکہ اہم اور بعض ناقابلِ فراموش واقعات کے ساتھ مصنّف کے ایسے ذاتی تجربات اور مشاہدات بھی پڑھنے کو ملتے ہیں جو اکثر حیران کن ہوتے ہیں۔
ایک ایسا ہی قصّہ ہم اختر حسین رائے پوری کی خود نوشت سوانح سے نقل کررہے ہیں جو آپ کی دل چسپی اور لطف کا باعث ہوگا۔ رائے پوری صاحب پاکستان کے نام ور ترقی پسند نقّاد، ادیب اور ماہرِ لسانیات تھے جن کی کتاب "گردِ راہ” سے ہم نے یہ پارہ منتخب کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
"وقت کی اصلیت کے متعلق مفکروں اور سائنس دانوں نے بہت سر کھپایا لیکن اس کا سراغ صحیح معنوں میں آج تک نہیں ملا۔ تاہم اس کی کرشمہ سازی کائنات کے ذرّے ذرّے میں سموئی ہوئی ہے۔”
"اس کی کارفرمائی کو آدمی اپنی تقدیر سے منسوب کرتا ہے، اور نجومی دست شناس وغیرہ اس کے رازداں ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ پیش گوئی کا جو مشاہدہ مجھے ہوا اس کا ذکر یہاں اس لیے کرتا ہوں کہ اس کا براہ راست تعلق میرے افریقہ کے قیام سے تھا جس کا کوئی وہم و گمان بھی نہ تھا۔”
"یہ واقعہ اگست 1962ء کا ہے جب میں یورپ سے کراچی آ رہا تھا جہاں یونیسکو کے علاقائی دفتر کی تنظیم و نظامت میرے سپرد ہوئی تھی۔ سرِ راہ سیر کی غرض سے استنبول ٹھہر گیا جہاں اتفاقاً میری ملاقات فاطمہ خانم سے ہوئی جو بائیس سال قبل پیرس یونیورسٹی میں میری ہم جماعت تھیں۔ اس طویل عرصے میں ان سے کبھی خط کتابت نہ ہوئی اور انھیں میرے حالات کا کوئی علم نہ تھا۔ شام کو ان کے گھر کھانے پر گیا تو ایک یونانی خاتون سے یہ کہہ کر تعارف کرایا گیا کہ وہ قہوے کی پیالی میں تقدیر کا تماشا دیکھ لیتی ہیں۔ کھانے کے بعد قہوہ ختم کرکے میں نے پیالی طشتری پر الٹ دی اور اس میں باقی ماندہ دو چار قطروں کو غور سے دیکھ کر اس نے مجھے سے تین عجیب باتیں کہیں۔ دو کا تعلق میری ذاتی زندگی سے تھا جو من و عن درست ثابت ہوئیں۔ اس مشاہدے کے بعد میرے ذہن میں وہ تیسری پیش گوئی اکثر کھٹکتی رہی جس کا مفہوم یہ تھا، تمھارا تعلق کسی ایسے کام سے ہے جو تمھیں بار بار اپنے ملک سے باہر لاتا لے جاتا ہے۔ آج کے بعد چھے بار جب تم بیرونی سفر کر چکو گے تو تمھیں اپنے صدر دفتر سے ایک ایسے ملک میں تبادے کی ہدایت ملے گی کہ تم حیران رہ جاؤ گے اور وہاں جانے سے صافت انکار کرو گے لیکن مجبوراً تمھیں وہاں جانا پڑے گا اور رفتہ رفتہ وہ جگہ تمھیں اتنی پسند آئے گی کہ وہاں سے کسی بہتر ملک میں جب تبادلے کا وقت آئے گا تو تم ہرگز راضی نہ ہوگئے گو کہ بادل نخواستہ وہاں جانا پڑے گا۔”
"یقین جانیے کہ اس یونانی خاتون کی پیش گوئی حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی۔ میں جب کراچی سے چھٹی بار بیرونی سفر کر کے لوٹا تو اپریل 1964ء میں یک بہ یک یونیسکو کے ناظم اعلیٰ نے صومالیہ تبادلے کا حکم نامہ یہ لکھ کر صادر کیا کہ وہاں ہمارے ادارے کی ساری کارکردگی بے سود ثابت ہو چکی ہے اور حالات کی اصلاح کے لیے تم سے بہتر کارکن ہمارے پاس نہیں ہے۔ الغرض قہر درویش بہ جان درویش مجھے وہاں جانا پڑا۔ پھر رفتہ رفتہ اور غیر شعوری طور پر افریقہ نے مجھ پر جو جادو کیا اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتے ہیں جنھیں وہاں عرصہ دراز تک رہنے کا اتفاق ہوا ہو۔ مغرب کی زندگی نظر آنکھوں فوراً خیرہ کرتی ہے مگر وقت کے ساتھ یہ چمک دمک ماند پڑ جاتی ہے۔ افریقہ کی کشش دیر میں محسوس ہوتی ہے اور دیر تک باقی رہتی ہے۔”
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


