ہفتہ, فروری 7, 2026
اشتہار

برقع پوش خاتون، ادبی شخصیات کے معاشقوں کا تذکرہ اور اختر شیرانی

اشتہار

حیرت انگیز

امرتسر میں غازی عبدالرحمن صاحب نے ایک روزانہ پرچہ’’مساوات‘‘ جاری کیا۔ اس کی ادارت کے لئے باری علیگ (مرحوم) اور ابو العلاء چشتی الصحافی (حاجی لق لق) بلائے گئے۔ ان دنوں میری آوارہ گردی معراج پر تھی۔ بے مقصد سارا دن گھومتا رہتا تھا۔ دماغ بے حد منتشر تھا۔ اس وقت تو میں نے محسوس نہیں کیا تھا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دماغی انتشار میرے لئے کوئی راستہ تلاش کرنے کے لیے بے تاب تھا۔

جیجے کے ہوٹل (شیراز) میں قریب قریب ہر روز گپ بازی کی محفل جمتی تھی۔ بالا، انور پینٹر، عاشق فوٹو گرافر، فقیر حسین سلیس اور ایک صاحب جن کا نام میں بھول گیا ہوں، باقاعدگی کے ساتھ اس محفل میں شریک ہوتے تھے۔ ہر قسم کے موضوع زیرِ بحث لائے جاتے تھے۔ بالا بڑا خوش گو اور بذلہ سنج نوجوان تھا، اگر وہ غیر حاضر ہوتا تو محفل سونی رہتی۔ شعر بھی کہتا تھا۔ اس کا ایک شعر ابھی تک مجھے یاد ہے۔

اشک مژگاں پہ ہے اٹک سا گیا
نوک سی چبھ گئی ہے چھالے میں

جیجے سے لے کر انور پینٹر تک سب موسیقی اور شاعری سے شغف رکھتے تھے۔ وہ صاحب جن کا نام میں بھول گیا تھا کیپٹن وحید تھے۔ نیلی نیلی آنکھوں والے، لمبے تڑنگے، مضبوط جسم، آپ کا محبوب مشغلہ گوروں سے لڑنا تھا۔ چنانچہ کئی گورے ان کے ہاتھوں پِٹ چکے تھے۔ انگریزی بہت اچھی بولتے تھے اور طبلہ ماہر طبلچیوں کی طرح بجاتے تھے۔

ان دنوں جیجے کے ہوٹل میں ایک شاعر اختر شیرانی کا بہت چرچا تھا۔ قریب قریب ہر محفل میں اس کے اشعار پڑھے یا گائے جاتے تھے۔ جیجا ( عزیز) عام طور پر ’’میں اپنے عشق میں سب کچھ تباہ کر لوں گا‘‘ ( بہت ممکن ہے کہ یہ مصرع غلط ہو) گایا کرتا تھا۔ یہ نئے قسم کا جذبہ سب کے ذہن پرمسلط ہوگیا تھا۔ معشوق کو جو دھمکی دی گئی تھی، سب کو بہت پسند آئی تھی۔

جیجا تو اختر شیرانی کا دیوانہ تھا۔ کاؤنٹر کے پاس کھڑا گاہک سے بل وصول کررہا ہے اور گنگنا رہا ہے، ’’اے عشق کہیں لے چل۔۔۔‘‘ مسافروں کو کمرے دکھا رہا ہے اور زیرِ لب گا رہا ہے، ’’کیا بگڑ جائے گا رہ جاؤ یہیں رات کی رات۔‘‘

عاشق فوٹو گرافر کی آواز گو بہت پتلی تھی لیکن وہ ’’اے عشق کہیں لے چل‘‘ بڑے سوز سے گایا کرتا تھا۔ میں نے جب بھی اس کے منہ سے یہ نظم سنی مجھ پر بہت اثر ہوا۔ اس زمانے میں چونکہ طبیعت میں انتشار تھا۔ اس لئے یہ نظم مجھے اپنے کندھوں پراٹھا دور۔۔۔ بہت دور اَن دیکھے جزیروں میں لے جاتی تھی۔

اتنا زمانہ بیت چکا ہے مگر وہ کیفیت جو اس وقت مجھ پر طاری ہوتی تھی میں اب بھی محسوس کرسکتا ہوں۔۔۔ عجیب و غریب کیفیت تھی۔ جیجے کے ہوٹل کے بہت اندر اندھیری مگر ٹھنڈی کوٹھری میں بیٹھا میں یوں محسوس کرتا، کشتی میں بیٹھا ہوں۔۔۔ پریاں اسے کھے رہی ہیں، نازک پروں والی پریاں، رات کا وقت ہے، اس لئے مجھے ان پریوں کا صرف سایہ سا نظر آتا ہے۔ سمندر پرسکون ہے، کشتی ہلکورے کھائے بغیر چل رہی ہے، کسی نامعلوم منزل کی طرف۔ پاپوں کی بستی بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ ہم دنیوی شور وغل سے ہزاروں میل آگے بڑھ گئے ہیں۔

جیجے کے ہوٹل میں کچھ عرصے کے بعد باری صاحب اور چشتی صاحب کا آنا جانا بھی شروع ہو گیا۔ دونوں کھانا کھاتے یا چائے پیتے اور چلے جاتے۔ مگر جب جیجے کو معلوم ہوا کہ وہ اخباری آدمی ہیں تو فوراً ان سے بے تکلف مراسم پیدا کر لیے۔ باری صاحب اختر شیرانی کے کلام سے واقف تھے، لیکن ذاتی طور پر شاعر کو نہ جانتے تھے۔ چشتی صاحب ایک مدت کے بعد بغداد اور مصر وغیرہ کی سیاحت کے بعد تازہ تازہ واپس آئے تھے۔ اس لئے وہ یہاں کے شعراء کے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے۔ پھر بھی جب انہوں نے جیجے سے اختر شیرانی کا کلام سنا تو بہت متاثر ہوئے۔

اس دوران میں باری صاحب کے ساتھ میں گھل مل گیا۔ ان کی سنجیدگی اور متانت بھری ظرافت مجھے بہت پسند آئی۔ میرے ذہنی انتشار کو بھانپ کر انہوں نے مجھے صحافت کی طرف مائل کیا۔ آہستہ آہستہ ادب سے روشناس کرایا۔۔۔ پہلے میں تیرتھ رام فیروز پوری کے ناول پڑھا کرتا تھا۔ اب باری صاحب کی وجہ سے آسکر وائلڈ اور وکٹر ہیوگو میرے زیر مطالعہ رہنے لگے۔ ہیوگو مجھے بہت پسند آیا۔ بعد میں مَیں نے محسوس کیا کہ اس فرانسیسی مصنف کا خطیبانہ انداز باری صاحب کی تحریروں میں موجود ہے۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں۔ اس کو بنانے میں سب سے پہلا ہاتھ باری صاحب کا ہے۔ اگر امرتسر میں ان سے ملاقات نہ ہوتی اور متواتر تین مہینے میں نے ان کی صحبت میں نہ گزارے ہوتے تو یقیناً میں کسی اور ہی راستے پر گامزن ہوتا۔

چونکہ اب میں کسی حد تک ادب سے روشناس ہو چکا تھا۔ اس لئے میں نے اختر شیرانی کے کلام کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا شروع کیا۔ اس کی شاعری ہلکی پھلکی اور رومانی تھی۔ میں اب غور کرتا ہوں تو اختر شیرانی مجھے کالج کے لڑکوں کا شاعر معلوم ہوتا ہے۔ ایک خاص عمر کے نوجوانوں کا شاعر، جن کے دل و دماغ پر ہروقت رومان کی مکڑی مہین مہین جالے تنتی رہتی ہے۔ مجھے اس وادی میں قدم رکھے زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ ایک دوست سے معلوم ہوا، اختر شیرانی آئے ہوئے ہیں اور ’’شیراز ہوٹل‘‘ میں ٹھہرے ہیں۔ اسی وقت وہاں پہنچا مگر معلوم ہوا کہ وہ جیجے کے ساتھ کہیں باہر گئے ہیں۔ دیر تک ہوٹل میں بیٹھا انتظار کرتا رہا مگر یہ لوگ واپس نہ آئے۔

شام کو پہنچا تو ہوٹل کے سندھی باورچی نے کہا کہ سب اوپر کوٹھے پر بیٹھے ہیں۔ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ میں اوپر گیا۔ چھڑکاؤ کر کے چارپائیاں بچھائی گئی تھیں۔ کچھ کرسیاں بھی تھیں۔ دیسی شراب کا دور چل رہا تھا۔ دس بارہ آدمی بیٹھے تھے جو میرے جانے پہچانے تھے۔ صرف ایک صورت اجنبی تھی اور وہ اختر شیرانی کی تھی۔ چپٹا چہرہ، سپاٹ پیشانی، موٹی ناک، موٹے ہونٹ، گہرا سانوالا رنگ، چھدرے بال، آنکھیں بڑی بڑی اور پرکشش، ان میں تھوڑی سی ادا سی بھی تھی۔ بڑی شستہ و رفتہ اردو میں حاضرین سے گفتگو کررہے تھے۔
میں پاس پہنچا تو بالے نے ان سے میرا تعارف کرایا۔ بڑی خندہ پیشانی سے پیش آئے اور مجھ سے بیٹھنے کے لئے کہا۔ میں چارپائی کے پاس کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد اختر صاحب جیجے سے مخاطب ہوئے، ’’عزیز(میری طرف اشارہ کر کے) ان کے لئے گلاس منگواؤ۔‘‘

گلاس آیا تو اختر صاحب نے مجھے ایک پیگ بنا کردیا جو میں نے شکریے کے ساتھ قبول کیا۔ دو تین دور ہوئے تو کسی نے اختر صاحب سے اپنا کلام سنانے کی فرمائش کی۔ اس پر انہوں نے کہا، ’’نہیں بھائی میں کچھ نہیں سناؤں گا۔۔۔ میں سنوں گا۔‘‘ پھر جیجے سے مخاطب ہوتے، ’’عزیز، سناؤ۔ ’’رسیلی انکھڑیوں سے نیند برساتے ہوئے آنا۔‘‘ یہ کہا اور ایک ٹھنڈی سانس لی جیسے بیتے ہوئے لمحات یاد آگئے ہیں۔ جیجے کو مجالِ انکار نہیں تھی۔ گلا صاف کیا اور اختر صاحب کی ایک مشہور غزل گانا شروع کر دی۔ سُر تال سب ٹھیک۔ مگر آواز پھٹی پھٹی سی تھی پھر بھی رنگ جم گیا۔ اختر صاحب پیتے رہے اور جھومتے رہے۔

دوسرے روز دوپہر کے وقت میں شیراز ہوٹل میں بیٹھا اختر صاحب کا انتظار کر رہا تھا ( وہ کسی دعوت پر گئے تھے) کہ ایک برقع پوش خاتون ٹانگے میں آئیں۔ آپ نے ایک ملازم سے اختر صاحب کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا، کہیں باہر تشریف لے گئے ہیں۔ آپ اپنا نام بتا دیجئے۔ برقعہ پوش خاتون نے اپنا نام نہ بتایا اور چلی گئی۔

اختر صاحب آئے تو میں نے اس خاتون کی آمد کا ذکر کیا۔ آپ نے بڑی شاعرانہ دلچسپی سے ساری بات سنی اور مسکرا دیے۔ یوں وہ خاتون ایک اسرار سا بن گئی۔ کھانا کھانے سے پہلے شام کو جب ٹھرے کا دور شروع ہوا تو جیجے نے اس برقع پوش خاتون کے متعلق اختر صاحب سے پوچھا، ’’حضرت وہ کون تھیں جو آج دوپہر کو تشریف لائی تھیں۔‘‘ اختر صاحب مسکرائے اور جواب گول کر گئے۔ بالے نے ان سے کہا، ’’کہیں سلمیٰ صاحبہ تو نہیں تھیں؟‘‘ اختر صاحب نے ہولے سے بالے کے گال پر طمانچہ مارا اور صرف اتنا کہا، ’’شریر۔۔۔‘‘ بات اور بھی زیادہ پر اسرار ہوگئی جو آج تک صیغۂ راز میں ہے۔ معلوم نہیں وہ برقعہ پوش خاتون کون تھیں۔ اس زمانے میں صرف اتنا معلوم ہوا تھا کہ اختر صاحب کے جانے کے بعد وہ ایک بار پھر شیراز ہوٹل میں آئی تھی اور اختر صاحب کے بارے میں اس نے پوچھا کہ کہاں ہیں۔
سب باری باری اختر صاحب کی دعوت کرچکے تھے۔۔۔ وہیں شیراز ہوٹل میں۔ دعوت دینے کا یہ طریقہ تھا کہ دن اور رات میں ٹھرے کی جتنی بوتلیں ختم ہوں ان کے دام ادا کر دیے جائیں۔ میں نے یہ طریقہ بھونڈا سمجھا اور دو بوتلیں اسکاچ و سکی کی لے کر ایک شام وہاں پہنچا۔ ایک بوتل پر سے کاغذ ہٹایا تو اختر صاحب نے کہا، ’’بھائی، یہ تم نے کیا کیا۔ دیسی شراب ٹھیک رہتی۔ ایک کے بدلے دو آجاتیں۔‘‘

میں نے عرض کی، ’’اختر صاحب! یہ ختم ہو جائے تو دوسری موجود ہے۔‘‘
اختر صاحب مسکرائے، ’’وہ ختم ہو گئی تو۔‘‘

میں نے کہا، ’’اور آجائے گی۔‘‘

آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، ’’زندہ رہو۔‘‘

دونوں بوتلیں ختم ہوگئیں۔ میں نے محسوس کیا کہ اختر صاحب اسکاچ سے مطمئن نہیں تھے۔ چنانچہ ملازم سے امرتسر ڈسٹلری کے کشید کردہ ٹھرے کی ایک بوتل منگوائی۔ اس نے اختر صاحب کے نشے میں جو خالی جگہیں تھیں پُر کر دیں۔ چونکہ یہ محفلیں خالص ادبی نہیں تھیں اور اس کے پیچھے صرف وہ عقیدت تھی جو ان لوگوں کو اختر صاحب سے تھی، اس لئے زیادہ تر ان ہی کا کلام پڑھا، یا گایا جاتا۔ شعر و سخن کے متعلق کوئی بصیرت افروز بات نہ ہوتی۔ لیکن اختر صاحب کی گفتگوؤں سے میں نے اتنا اندازہ لگا لیا تھا کہ اردو شاعری پر ان کی نظر بہت وسیع ہے۔

چند روز کے بعد میں نے گھر پر اختر صاحب کی دعوت کی۔ مگر یہ صرف چائے کی تھی جس سے اختر صاحب جیسے رند بلا نوش کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ لیکن انہوں نے قبول کی اور میری خاطر ایک پیالی چائے بھی پی۔ ان محفلوں میں باری صاحب بہت کم شریک ہوتے۔ البتہ چشتی صاحب جو پینے کے معاملے میں اختر صاحب سے چند پیگ آگے ہی تھے۔ اکثر ان محفلوں میں شریک ہوتے اور اپنا کلام بھی سناتے جو عام طور پر بے روح ہوتا تھا۔

اختر صاحب غالباً دس دن امرتسر میں رہے۔ اس دوران میں جیجے کے پیہم اصرار پر آپ نے شیراز ہوٹل پر ایک نظم کہی۔ جیجے نے اسے باری صاحب کی وساطت سے بڑے کاغذ پر خوشخط لکھوایا اور فریم میں جڑوا کر اپنے ہوٹل کی زینت بنایا۔ وہ بہت خوش تھا کیوں کہ نظم میں اس کا نام موجود تھا۔ اختر صاحب چلے گئے تو جیجے کے ہوٹل کی رونق غائب ہوگئی۔ باری صاحب نے اب میرے گھر آنا شروع کر دیا تھا۔ میرا شراب پینا ان کو اچھا نہیں لگتا تھا۔ خشک واعظ نہیں تھے۔ اشاروں ہی اشاروں میں کئی دفعہ مجھے اس علّت سے باز رہنے کے لیے کہا مگر میں باز نہ آیا۔

باری صاحب تین مہینے امرتسر میں رہے۔ اس دوران میں انہوں نے مجھ سے وکٹر ہیوگو کی ایک کتاب’’سرگزشتِ اسیر‘‘ کے نام سے ترجمہ کرائی۔ جب وہ چھپ کر پریس سے باہر آئی تو آپ لاہور میں تھے۔ میں نے طبع شدہ کتاب دیکھی تو اکساہٹ پیدا ہوئی کہ اور ترجمہ کروں۔ چنانچہ میں نے آسکر وائلڈ کے اشتراکی ڈرامے’’ویرا‘‘ کا ترجمہ شروع کر دیا۔ جب ختم ہوا تو باری صاحب کو اصلاح کے لئے دیا مگر مصیبت یہ تھی کہ وہ میری تحریروں میں بہت ہی کم کانٹ چھانٹ کرتے تھے۔ زبان کی کئی غلطیاں رہ جاتی تھیں جب کوئی ان کی طرف اشارہ کرتا تو مجھے بہت ہی کوفت ہوتی۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ باری صاحب کے بعد اختر صاحب کو ترجمے کا مسودہ دکھاؤں گا۔

عرب ہوٹل میں آنے جانے سے مظفر حسین شمیم صاحب سے اچھے خاصے تعلقات پیدا ہوگئے تھے۔ میں نے ان سے اصلاح کی بات کی تو وہ مجھے اسی وقت اختر شیرانی صاحب کے پاس لے گئے۔ چھوٹا سا غلیظ کمرہ تھا۔ آپ چارپائی پر تکیہ سینے کے ساتھ دبائے بیٹھے تھے۔ علیک سلیک ہوئی۔ اختر صاحب مجھے پہچان گئے۔۔۔ یارانِ شیراز ہوٹل کے بارے میں پوچھا، جو کچھ معلوم تھا، میں نے ان کو بتا دیا۔

شمیم صاحب اور اختر صاحب کی گفتگو بہت پر تصنع اور پر تکلف تھی۔ حالانکہ مجھ سے کسی شخص نے کہا تھا کہ وہ دونوں کسی زمانے میں یک جان دو قالب تھے۔ بہرحال شمیم صاحب نے میرے آنے کا مدعا بیان کیا۔ اختر صاحب نے کہا، ’’میں حاضر ہوں۔ آج رات ہی سارا مسودہ دیکھ لوں گا۔‘‘

اختر صاحب نے سینے کے ساتھ تکیہ اس لئے دبایا ہوا تھا کہ ان کے جگر میں تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ٹیس سی اٹھتی تھی۔ اس زمانے میں ان کا جگر قریب قریب ماؤف ہو چکا تھا۔۔۔ میں نے ان سے رخصت لی اور شام کو حاضر ہونے کا کہہ کر شمیم صاحب کے ساتھ واپس عرب ہوٹل چلا آیا۔ انہوں نے مجھ سے اشارتاً کہا کہ اگر تم اختر سے اپنا کام جلدی کرانا چاہتے ہو تو ساتھ’’وہ چیز‘‘ لیتے جانا۔ میں جب شام کو اختر صاحب کے پاس پہنچا تو’’وہ چیز‘‘ میرے پاس موجود تھی جو میں نے بڑے سلیقے سے پیش کی۔ بوتل ڈرتے ڈرتے باہر نکالی اور ان سے کہا، ’’کیا یہاں اس کی اجازت ہے۔ معاف کیجیے گا یہ پوچھنا ہی بڑی بدتمیزی ہے۔‘‘
اختر صاحب کی آنکھیں تمتما اٹھیں۔ میرا خیال ہے وہ صبح کے پیاسے تھے۔ مسکرائے اور میرے سر پر بڑی شفقت سے ہاتھ پھیرا، ’ شراب پینا کوئی بدتمیزی نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر بوتل میرے ہاتھ سے لی اور تکیہ فرش پر رکھ کر اس پر بوتل کا نچلا ٹھونکنا شروع کیا تاکہ کارک باہر نکل آئے۔

ان دنوں پیتا تھا مگر یوں کہیے کہ زیادہ پی نہیں سکتا تھا۔ چار پیگ کافی تھے۔ مقدار اس سے اگر بڑھ جاتی تو طبیعت خراب ہو جاتی اور سارا لطف غارت ہو جاتا۔ ادھر ادھر کی باتیں کرتے اور پیتے کافی دیر ہوگئی۔ اختر صاحب کا کھانا آیا اور جس طریقے سے آیا اس سے میں نے یہ جانا کہ ان کے گھر والوں کے تعلقات ان سے کشیدہ ہیں۔ بعد میں اس کی تصدیق بھی ہوگئی۔ ان کے والدِ مکرم حافظ محمود شیرانی صاحب ( مرحوم و مغفور) ان کی شراب نوشی کے باعث بہت نالاں تھے۔ تھک ہار کر انہوں نے اختر صاحب کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا تھا۔

رات زیادہ گزر گئی تو میں نے اختر صاحب سے درخواست کی کہ وہ مسودہ دیکھنا شروع کر دیں۔ آپ نے یہ درخواست قبول کی اور مسودے کی اصلاح شروع کر دی۔ چند صفحات دیکھے تو آسکر وائلڈ کی رنگین زندگی کی باتیں شروع کر دیں، جو غالباً انہوں نے کسی اور سے سنی تھیں۔ آسکر وائلڈ اور لارڈ الفرڈ ڈگلس کے معاشقے کا ذکر آپ نے بڑے مزے لے لے کر بیان کیا۔ وائلڈ کیسے قید ہوا یہ بھی بتایا۔ پھر ان کا ذہن ایک دم لارڈ بائرن کی طرف چلا گیا۔ اس شاعر کی ہر ادا انہیں پسند تھی۔ اس کے معاشقے جو کہ لاتعداد تھے اختر صاحب کی نگاہوں میں ایک جداگانہ شان رکھتے تھے۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ لارڈ بائرن کے نام سے انہوں نے کئی غزلیں اور نظمیں بھی لکھی تھیں۔

لارڈ بائرن کی باتیں سنتے سنتے مجھے نیند آگئی اور وہیں سو گیا۔ صبح اٹھا تو دیکھا اختر صاحب فرش پر بیٹھے مسودہ دیکھنے میں مصروف ہیں۔ بوتل میں تھوڑی سی بچی ہوئی تھی۔ یہ آپ نے پی اور آخری صفحات دیکھ کر مسودہ میرے حوالے کیا اور کہا، ’’ترجمہ بہت اچھا ہے۔ کہیں کہیں زبان کی اغلاط تھیں۔ وہ میں نے درست کر دی ہیں۔‘‘ میں نے مناسب و موزوں الفاظ میں ان کا شکریہ ادا کیا اور امرتسر روانہ ہوگیا۔

(سعادت حسن منٹو کے مضمون سے اقتباسات)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں